انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین جنگ میں ایک تہائی سے زیادہ بچے بے گھر، یونیسف

ایلیکا نامی ایک چار سالہ بچی یوکرین کے شہر کیف کے علاقے میں ایک گھر کے باہر برف کے موسم میں آگ لگانے کے لیے لکڑی لے کر جارہی ہے تاکہ میزائل کے حملوں سے بے گھر ہونے کے بعد گرم کرنے کے لیے لکڑی سے چلنے والے چولہے کو روشن کرنے میں مدد کرے۔
© UNICEF/Dmytrii Bortkevych
یوکرین میں لاکھوں بچے اور خاندان سخت سردی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

یوکرین جنگ میں ایک تہائی سے زیادہ بچے بے گھر، یونیسف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ کے نتیجے میں اہم شہری سہولیات تباہ ہو رہی ہیں جن پر بچوں کی زندگی کا انحصار ہے۔

یہ جنگ اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو رہی ہے اور ملک میں 25 لاکھ 89 ہزار یا ایک تہائی سے زیادہ بچے بے گھر ہیں۔ ان میں 7 لاکھ 91 ہزار سے زیادہ ایسے ہیں جنہیں اپنے والدین کے ساتھ ملک کے اندر نقل مکانی کرنا پڑی ہے جبکہ 17 لاکھ 98 ہزار بیرون ملک پناہ گزین کی حیثیت سے مقیم ہیں۔

Tweet URL

یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے یونیسف کی علاقائی ڈائریکٹر ریجینا ڈی ڈومینیکس نے کہا ہے کہ لاکھوں بچے اور خاندان تحفظ کی تلاش میں اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ چار سال گزر جانے کے باوجود ہر تین میں سے ایک بچہ بے گھر ہے۔ کئی حوالوں سے یہ جنگ ان بچوں کا تعاقب کر رہی ہے۔

بہت سے بچوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یونیسف کے حالیہ جائزے کے مطابق بے گھر ہونے والے 15 سے 19 سال کی عمر کے ہر تین میں سے ایک نوعمر فرد نے کم از کم دو مرتبہ نقل مکانی کی جس کی سب سے بڑی وجہ عدم تحفظ بتائی گئی۔

سکولوں اور ہسپتالوں کی تباہی

24 فروری 2022 سے اب تک بمباری، خصوصاً طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کے نتیجے میں 3,200 سے زیادہ بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال بچوں کے جانی نقصانات میں 2024 کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔

گزشتہ چار برس کے دوران بچوں کے لیے بنیادی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں اور اب مزید دباؤ کا شکار ہیں۔ 1,700 سے زیادہ سکول اور دیگر تعلیمی ادارے تباہ یا نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس طرح ہر تین میں سے ایک بچہ مکمل وقت کے لیے سکول جانے سے محروم ہے۔

توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حالیہ حملوں کے باعث لاکھوں بچے اور خاندان سخت سردی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں کئی روز گھروں میں حرارت، بجلی اور پانی کے بغیر رہنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں شیر خوار اور کم سن بچے نمونیا اور جسمانی درجہ حرارت خطرناک حد تک گر جانے (ہائپوتھرمیا) کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ 

حملوں اور بجلی کی کمی کے باعث طبی مراکز بھی موثر انداز میں کام کرنے سے قاصر ہیں اور گزشتہ سال ہی تقریباً 200 ہسپتالوں اور شفا خانوں کو نقصان پہنچنے یا ان کے تباہ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

یونیسف کے امدادی اقدامات 

جسمانی خطرات کے علاوہ بچوں کی ذہنی صحت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ حملوں کا مستقل خوف، تہہ خانوں میں پناہ لینے کی مجبوری اور محدود سماجی روابط نے بچوں اور نوعمر افراد کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ جائزے کے مطابق، 15 سے 19 سال ایک چوتھائی نوجوان یوکرین میں اپنے مستقبل سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔

یونیسف یوکرین اور ہمسایہ میزبان ممالک میں بے گھر اور متاثرہ بچوں کی مدد کر رہا ہے۔ اس ضمن میں صاف پانی، صحت کی سہولیات، غذائیت، تعلیم، تحفظ اطفال اور ذہنی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ حملوں سے متاثرہ سکولوں، ہسپتالوں کی مرمت اور پانی کی تنصیبات کی بحالی جیسی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

2025 میں ادارے نے مقامی حکام اور شراکت داروں کے ذریعے 70 لاکھ افراد تک انسانی امداد پہنچائی جن میں 25 لاکھ بچے بھی شامل تھے۔ بحالی کے پروگراموں کے تحت حکام کے تعاون سے ملک بھر میں تقریباً 98 لاکھ افراد کے لیے سماجی خدمات کو مضبوط بنایا گیا۔

ریجینا ڈی ڈومینیکس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت عائد ذمہ داریوں پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے اور بچوں اور ان کے لیے مددگار شہری ڈھانچے کو تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات ہونا چاہئیں۔