غزہ: جنگ کا ملبہ ہٹانے میں سات سال لگ سکتے ہیں، یو این ڈی پی
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے منتظم الیگزنڈر ڈی کرو نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں ملبہ اور کچرا ہٹانے، پناہ کے لیے ضروری سازوسامان مہیا کرنے، طبی سہولیات کی فراہمی اور شدید بیمار افراد کو بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے اداروں کو علاقے میں مزید رسائی دی جائے۔
انہوں نے غزہ کے دورے میں اقوام متحدہ کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ رفتار سے تمام ملبہ صاف کرنے میں سات سال لگ جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے پاس عملہ، مالی وسائل اور تکنیکی صلاحیت سمیت سبھی کچھ موجود ہے۔ انہیں صرف رسائی درکار ہے تاکہ علاقے میں انسانی حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔
الیگزنڈر کرو نے غزہ شہر میں 'یو این ڈی پی' کے تعاون سے خوراک تیار کرنے والے پلانٹ اور وسطی علاقے فراس کا دورہ کیا جو جنگ کے دوران بنیادی خدمات کی معطلی کے باعث کوڑے کے ایک بڑے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ادارے نے اپنے شراکت داروں کے تعاون سے تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار ٹن کچرا اٹھانے اور اسے گنجان آباد علاقے سے باہر منتقل کرنے کا کام بھی شروع کیا تھا تاکہ لوگوں کو بیماریوں، حشرات، چوہوں اور تعفن سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی تین ترجیحات
انہوں نے اس دورے میں یو این نیوز کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے اداروں کو غزہ میں رسائی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ خاص طور پر تین شعبوں میں فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
سب سے پہلے علاقے سے ملبہ اور کچرا ہٹانا بہت ضروری ہے کیونکہ ان چیزوں سے لوگوں کی زندگی اور صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
لوگوں کو عارضی رہائش فراہم کرنے کے لیے رسائی درکار ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے ایسے مکانات تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان خیموں سے کہیں بہتر ہوں گے جن میں لوگ اس وقت رہنے پر مجبور ہیں۔
تیسرا ضروری کام طبی آلات کی فراہمی ہے تاکہ لوگوں کی صحت سے متعلق ضروریات پوری کی جا سکیں اور ایسے مریضوں کو باآسانی غزہ سے باہر منتقل کرنا ممکن ہو جنہیں فوری اور خصوصی علاج درکار ہے۔
انسانی ساختہ المیہ
منتظم نے اس دورے میں بے گھر افراد اور مقامی امدادی تنظیموں کے عملے سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے غزہ کی صورتحال کو دور حاضر کے سب سے بڑے انسانی ساختہ المیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں لوگوں کو بقا کی جدوجہد کرتا دیکھ کر گہرا دکھ محسوس ہوتا ہے۔ بچوں سمیت تمام لوگ بہت بڑے انسانی ساختہ سانحے سے گزر رہے ہیں لیکن میں ان میں غیر معمولی حوصلہ اور ثابت قدمی بھی نظر آتی ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر اقوام متحدہ کے اداروں کو غزہ میں اپنی رسائی بڑھانے کی اجازت دی جائے تو وہ فلسطینیوں کو درپیش شدید مسائل کا حل فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔