انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: یو این ادارہ حکومت کی اے آئی استعداد کار بڑھانے میں مددگار

گرین لائٹنگ کے ساتھ کمپیوٹر سرکٹ بورڈ پر ایک چمکتا ہوا AI چپ کا قریبی عکس۔
© Unsplash/Immo Wegmann
مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ڈیٹا تجزیہ، فیصلہ سازی، آٹومیشن اور اصلاح میں معاون ثابت ہوں گے۔

پاکستان: یو این ادارہ حکومت کی اے آئی استعداد کار بڑھانے میں مددگار

پائیدار ترقی کے اہداف

اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان میں ڈیجیٹل اختراعات کے ذریعے طرز حکمرانی کو بہتر بنانے، عدم مساوات میں کمی لانے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جامع اور پائیدار ترقی کے حصول میں مدد دینے کے لیے کوشاں ہے۔

ملک میں منائے جانے والے ہفتہ برائے مصنوعی ذہانت کے موقع پر ادارے نے وزارت منصوبہ بندی، ترقی وخصوصی اقدامات، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) کے اشتراک سے ایک اعلیٰ سطحی پالیسی اجلاس منعقد کیا جس کا موضوع 'مصنوعی ذہانت، جامع ترقی اور موثر طرز حکمرانی کے ذریعے پاکستان کے مسقبل کی تعمیر' تھا۔ 

'ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان' کے عنوان سے منائے جانے والے اس ہفتے کی مناسبت سے منعقدہ اس اجلاس میں جائزہ لیا گیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کس طرح عوامی خدمات کی فراہمی اور طرز حکومت کو بہتر بنا سکتی ہے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تیزی لا سکتی ہے۔

ذمہ دارانہ نظام

اس موقع پر ایشیا اور الکاہل کے لیے 'یو این ڈی پی' کے نمائندے ایموس پیٹرز نے ادارے کی رپورٹ 'دی نیکسٹ گریٹ ڈائیورجنس' کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ 'اے آئی' کے غیر مساوی استعمال سے غیرمساوی ترقی کا رجحان تقویت پا سکتا ہے۔ 

اجلاس کے آغاز پر پاکستان میں 'یو این ڈی پی کے نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزک نے ملک میں 'اے آئی' کے ذریعے آنے والی تبدیلی میں عوام، شمولیت اور مضبوط طرز حکمرانی کو مرکزی اہمیت دینے پر زور دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ 'اے آئی' ترقیاتی نتائج کو بڑے پیمانے پر بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن یہ پیش رفت نہ خودکار ہے اور نہ ہی اس کے مساوی ہونے کی ضمانت ہے۔ لہذا مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ نظام کے لیے جامع منصوبہ بندی، مضبوط اداروں، اخلاقیات اور ڈیٹا کے مستحکم انتظام پر سرمایہ کاری لازم ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ڈیجیٹل تبدیلی اور انسانی ترقی پر اظہار خیال کرتے ہوئے زور دیا کہ انسانی ذہانت ہی دراصل مصنوعی ذہانت کی بنیاد ہے اور ہنر کی تربیت معاشی ترقی اور شمولیت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

مستحکم ڈیجیٹل بنیاد 

اجلاس میں غور کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ ریاست اور پاکستان میں 'اے آئی' کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے ڈیجیٹل بنیادوں کو کس طرح مضبوط اور پائیدار بنایا جائے۔ ان میں الگ تھلگ تجرباتی منصوبوں سے مربوط نظام کی طرف منتقلی، ادارہ جاتی مہارتوں اور تعاون کو بہتر بنانا اور شفاف طرز حکمرانی کی تشکیل شامل ہے۔ 

یہ بات چیت 'خدمات کی بہتری اور 'اے آئی' کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف کا فوری حصول' کے موضوع پر بین الوزارتی اجلاس میں بھی جاری رہیں۔ اس میں احسن اقبال، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی تعاون ڈاکٹر مصدق ملک نے شرکت کی۔ 

اس موقع پر ہونے والی گفتگو میں جائزہ لیا گیا کہ 'اے آئی' کس طرح خدمات کی فراہمی، مالیاتی انتظام، موسمیاتی منصوبہ بندی اور معلومات پر مبنی پالیسی سازی کو بہتر بنا سکتی ہے جس میں سرکاری وسائل کے ترجیحی استعمال کے لیے معروضی اور نتائج پر مبنی طریقہ کار بھی شامل ہے۔ 

مقررین نے 'اے آئی' کے ذریعے مالیاتی کارکردگی، سرکاری آمدنی کے نظام میں بہتری لانے، ذمہ دارانہ مالی اختراع اور موجودہ پلیٹ فارمز اور متنوع معلوماتی ذرائع کے بہتر استعمال سے شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کے فروغ سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔