انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مقبوضہ مغربی کنارے فلسطینیوں کا زمینی ملکیت سے محروم ہونے کا خدشہ

media:entermedia_image:61b3a5bb-e744-49c0-bd3f-fff48c33ccf4
© UNICEF/Media Clinic
ایک فلسطینی خاندان اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں جلنے والے اپنے گھر کے باہر کھڑا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے فلسطینیوں کا زمینی ملکیت سے محروم ہونے کا خدشہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقہ سی میں اراضی کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائیداد سے محروم کیے جانے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی سمیت اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف غیرقانونی ہیں بلکہ ان سے حالات مزید غیر مستحکم ہو رہے ہیں۔ 

اس طرح علاقے میں اسرائیلی تسلط کو مزید وسعت ملے گی جبکہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) بھی واضح کر چکی ہے کہ قابض طاقت کو مقبوضہ علاقوں میں ایسے اقدام کی اجازت نہیں۔

فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

ترجمان کے مطابق، سیکریٹری جنرل نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کا موجودہ طرزعمل فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس موقف کی توثیق کی ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں قائم تمام اسرائیلی بستیاں اور ان سے وابستہ نظام کوئی قانونی جواز نہیں رکھتے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انتونیو گوتیرش نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ پائیدار امن کے واحد راستے یعنی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل پر کاربند رہیں۔