انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نوآبادیاتی نظام کا معاشی و سماجی استحصال آج بھی موجود، گوتریش

media:entermedia_image:ad19a04a-6cd1-4df1-8f3d-5590c280aacf
© UNICEF/Elwyn Jones
سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں موسمیاتی بحران پر مظاہرے کے دوران لوگوں نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف بھی پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے (فائل فوٹو)۔

نوآبادیاتی نظام کا معاشی و سماجی استحصال آج بھی موجود، گوتریش

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ نوآبادیات کی میراث نے انسانیت پر گہرے زخم چھوڑے ہیں جو معاشی استحصال کے مضبوط ڈھانچوں، نسل پرستی، عدم مساوات اور فیصلہ سازی کے اداروں سے اخراج کی صورت میں آج بھی موجود ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے نوآبادیات کے خاتمے پر اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کے سالانہ اجلاس کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ دنیا نے طویل سفر طے کیا ہے۔ 1945 کے بعد 100 سے زیادہ ممالک آزادی حاصل کر چکے ہیں اور آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ لوگ حق خودارادیت اور وقار کے ساتھ جینے کی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آغاز سے ہی نوآبادیات کا خاتمہ اقوام متحدہ کے بنیادی مقاصد میں شامل رہا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے کئی مثبت تبدیلیاں آ چکی ہیں لیکن تاحال بہت سا کام باقی ہے۔

انہوں نے باقی ماندہ 17 غیر خودمختار علاقوں کے مستقبل کے لیے تین ترجیحات پر زور دیا:

  • اول: غیر خودمختار علاقوں، ان کے انتظامی اداروں، رکن ممالک اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان جامع اور بامعنی مکالمہ۔
  • دوم: نئی نسل کا تصور اور قائدانہ کردار باوقار، پیداواری اور مشمولہ مستقبل کی تعمیر کے لیے نہایت اہم ہے۔
  • سوم: موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت۔

سیکرٹری جنرل نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا، آئیے سب مل کر، ایک ٹیم کی صورت میں، نوآبادیات کے مکمل خاتمے کے لیے انتھک محنت جاری رکھیں۔