یوکرین جنگ: وطن لوٹنے والے پھر نقل مکانی سوچنے پر مجبور، آئی او ایم
یوکرین کے خلاف روس کی جنگ پانچویں سال میں داخل ہونے کو ہے۔ عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں واپس آنے والے تین لاکھ 25 ہزار شہریوں کو دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے گا جن میں ایک تہائی بیرون ملک ہجرت پر غور کر رہے ہیں۔
'آئی او ایم' کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ جنگ کے چار سال بعد صرف ہمت اور برداشت ہی لوگوں کو ایک اور ایسی سردی سے نہیں بچا سکتے جس میں وہ بجلی اور حرارت سے محروم ہوں۔ محفوظ رہائش، توانائی کا قابل بھروسہ نظام اور بنیادی خدمات تعیش نہیں بلکہ لوگوں کی سلامتی، بقا اور وقار کے لیے ناگزیر ہیں۔ اگر مسلسل مدد فراہم نہ کی گئی تو توانائی کے بحران لوگوں کو ایک مرتبہ پھر نقل مکانی پر مجبور کر سکتے ہیں۔
جنوری 2026 تک یوکرین میں اندرون ملک بے گھر افراد کی تعداد 37 لاکھ تھی۔ گزشتہ برسوں میں 44 لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں جن میں بیرون ملک سے واپس آنے والے 10 لاکھ سے زیادہ افراد بھی شامل ہیں۔ تاہم، سرحد پار کر کے واپس آنے والے تمام لوگ اپنے گھروں تک نہیں پہنچ سکے اور اب بھی 3 لاکھ 72 ہزار افراد ملک کے اندر بے گھر ہیں۔
'آئی او ایم' کے امدادی اقدامات
یوکرین میں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر رہا ہے اور ملک بھر میں بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہیں۔ ملک چھوڑنے کے رجحانات اس مجموعی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں جو بدامنی، گھروں کی تباہی اور بجلی و حرارت کی محدود دستیابی کے باعث پیدا ہو رہا ہے۔
جن علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعداد نے واپسی اختیار کی ہے وہاں پاور بینک، جنریٹروں اور مکانات کی مرمت کے سامان کی شدید کمی ہے جبکہ محاذ جنگ کے قریب بعض علاقوں میں 90 فیصد سے زیادہ ضروریات پوری نہیں ہو سکیں۔
'آئی او ایم' 2022 سے اب تک ملک بھر میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں کرتا آیا ہے جن کے ذریعے ملک کے اندر براہ راست اور بالواسطہ 69 لاکھ افراد کی مدد کی گئی جبکہ 11 ہمسایہ ممالک میں بھی لاکھوں افراد کو معاونت فراہم کی گئی۔
عالمی برادری سے اپیل
ادارے نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ مزید نقل مکانی کو روکنے کے لیے سرمائی امداد، رہائش گاہوں کی مرمت، روزگار میں معاونت اور ذہنی صحت کی مربوط خدمات کی فراہمی میں مدد مہیا کرے۔ ایسی ضروریات محاذ جنگ سے قریب علاقوں میں کہیں زیادہ ہیں۔
'آئی او ایم' کا کہنا ہے کہ بروقت اور خاطر خواہ امداد کے بغیر توانائی کی مسلسل معطلی مزید نقل مکانی کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔