سلامتی کونسل میں مستقل افریقی نشست نہ ہونا ناقابل جواز، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ افریقی یونین (اے یو) تقسیم اور بداعتمادی کے دور میں کثیرالفریقی نظام کی روشن مثال ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں اس کا اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون نئی بلندیوں کو چھو چکا ہے۔
انہوں نے ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں یونین کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو اس تنظیم کی ترجیحات کی حمایت پر فخر ہے جن میں جنگوں کے خاتمے کا اقدام، افریقی امدادی ادارے کا قیام اور مشمولہ سیاسی تبدیلی کا فروغ شامل ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل میں افریقہ کی مستقل نشستوں کی غیرموجودگی ناقابل جواز ہے۔ یہ 1946 نہیں بلکہ 2026 ہے اور جب افریقہ اور دنیا سے متعلق فیصلے کیے جائیں تو افریقہ کی موجودگی لازم ہونی چاہیے اور افریقہ کے عوام کو اپنے وسائل کا حقیقی فائدہ ملنا چاہیے۔
عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات
مستقبل کے لیے لائحہ عمل بیان کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے تین بنیادی شعبوں کی نشاندہی کی جن میں امن و سلامتی اور معاشی و موسمیاتی اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے براعظم میں جاری متعدد تنازعات کا ذکر کیا اور خاص طور پر سوڈان کے حوالے سے کہا کہ فریقین کو فوری اور مستقل جنگ بندی پر آمادہ ہونا چاہیے اور سوڈانی قیادت میں جامع سیاسی عمل کی بحالی کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہییں۔
انتونیو گوتیرش نے معاشی اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ افریقہ ہر سال قرضوں کی ادائیگی اور غیر قانونی مالی بہاؤ کی مد میں اس سے زیادہ رقم کھو دیتا ہے جتنی اسے امداد کی صورت میں ملتی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ دہرایا تاکہ ترقی پذیر ممالک کو فیصلہ سازی میں موثر آواز اور حقیقی شمولیت حاصل ہو سکے۔
سیکرٹری جنرل نے موسمیاتی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمگیر موسمیاتی بحران کو پیدا کرنے میں افریقہ کا کردار معمولی ہے مگر اسے تیزی سے بڑھتی عالمی حدت کے بدترین نتائج کا سامنا ہے جبکہ یہ براعظم ماحول دوست توانائی کے میدان میں قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔
یو این اور افریقہ کی شراکت
انہوں نے امن، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سیکرٹری جنرل کے عہدے کی مدت رواں سال کے اختتام پر مکمل ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اس اجلاس میں ان کی موجودگی کو الوداعی ملاقات قرار دے رہے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے۔
انہوں نے شرکا کو یقین دلایا کہ افریقہ ان کے عہدے کی مدت کے آخری لمحے تک اقوام متحدہ کی تمام سرگرمیوں میں اولین ترجیح رہے گا اور افریقی یونین اور اقوام متحدہ کے مابین تعاون ادارے کی مضبوط ترین تزویراتی شراکت ہو گی۔