انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امریکی گھیراؤ کا کیوبا میں بنیادی انسانی ضروریات پر دباؤ قابل تشویش

media:entermedia_image:b167e3c1-36f1-49fb-bc98-4895720ef3c5
Unsplash/Jennifer Chen
کیوبا کا دارالحکومت ہوانا (فائل فوٹو)۔

امریکی گھیراؤ کا کیوبا میں بنیادی انسانی ضروریات پر دباؤ قابل تشویش

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کیوبا میں بگڑتی سماجی و معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو دہائیوں پر محیط مالی اور تجارتی پابندیوں، شدید موسمی حالات اور امریکہ کی جانب سے اس کے تیل کی ترسیل پر نئی رکاوٹوں کے باعث مزید سنگین ہو گئی ہے۔

ادارے کی ترجمان مارٹا ہورڈاٹو نے کہا ہے کہ یہ حالات کیوبا کے شہریوں کے انسانی حقوق پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ملک میں صحت، خوراک اور پانی کے نظام درآمدہ ایندھن پر انحصار کرتے ہیں جس کی قلت کے باعث ملک بھر میں بنیادی خدمات کی فراہمی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

Tweet URL

ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات طبی مراکز میں انتہائی نگہداشت کے شعبوں تک بھی پہنچ رہے ہیں جبکہ ویکسین، خون اور حدت کے اعتبار سے حساس ادویات کی تیاری، ان کی ترسیل اور انہیں ذخیرہ رکھنے کا انتظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔

کیوبا میں 80 فیصد سے زیادہ پانی کی فراہمی بجلی کے ذریعے ہوتی ہے جس کی طویل لوڈ شیڈنگ نے صاف پانی، نکاسی آب اور صفائی کی سہولیات تک رسائی کو متاثر کیا ہے۔

سماجی بے چینی میں اضافے کا خدشہ 

انہوں نے کہا ہے کہ ایندھن کی کمی نے بنیادی خوراک کی فراہمی کے نظام کو بھی درہم برہم کر دیا ہے  اور سماجی تحفظ کے پروگرام، سکولوں میں کھانے کی فراہمی، زچگی وارڈ اور نرسنگ ہوم بھی متاثر ہو رہے ہیں جبکہ اس کا بوجھ غیر متناسب طور پر کمزور اور نادار طبقات پر پڑ رہا ہے۔ بجلی بند رہنے سے مواصلاتی نظام اور معلومات تک رسائی بھی متاثر ہونے لگی ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ بنیادی اشیائے ضرورت اور خدمات بشمول خوراک، پانی، ادویات، ایندھن اور بجلی تک رسائی کو یقینی بنایا جانا چاہیے کیونکہ یہ بنیادی انسانی حق ہیں۔ 

شعبہ جاتی پابندیوں کے طویل المدتی اور مسلسل اثرات معاشی مشکلات کو بڑھا رہے ہیں اور ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت کو کمزور کر رہے ہیں جن میں تحفظ اور امدادی خدمات کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں سماجی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ 

ترجمان نے کیوبا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے مطابق اقدامات کے لیے تیار رہے، کمزور طبقات کی ضروریات کو پیش نظر رکھے، کشیدگی کم کرنے اور مصالحت کو ترجیح دے اور سب کے لیے پرامن اجتماع اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کا تحفظ کرے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کی اس اپیل کا اعادہ بھی کیا ہے کہ تمام ممالک کیوبا پر یکطرفہ پابندیاں ختم کریں، کیونکہ ان کے اثرات وسیع اور بلاامتیاز طور پر عام آبادی کو متاثر کرتے ہیں۔ سیاسی مقاصد ایسے اقدامات کا جواز فراہم نہیں کر سکتے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث ہوں۔