شام میں اندرونی خلفشار اور اسرائیلی دراندازیاں غیر یقینی کا سبب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ شام کی عبوری حکومت اور شمال مشرقی علاقے میں کرد حکام کے درمیان طے پانے والا حالیہ معاہدہ سیاسی عمل میں ایک اہم پیشرفت ہے لیکن استحکام کی راہ پر اب بھی بہت سے مسائل موجود ہیں۔
ملک کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی نمائندے کلاڈیو کورڈونے کا کہنا ہے کہ جنوبی علاقے میں دوبارہ جھڑپیں، اسرائیلی دراندازی اور شدید انسانی بحران کے سبب شام کے مستقبل پر چھائے غیریقینی کے بادل برقرار ہیں۔ انہوں نے کونسل کو بتایا ہے کہ 30 جنوری کو طے پانے والے جنگ بندی اور انضمام کے معاہدے کے تحت ملک کے شمال مشرقی علاقے کا مرحلہ وار عسکری اور انتظامی انضمام کیا جائے گا۔ اس میں بے گھر افراد کی واپسی اور کرد شہریوں کے شہری و تعلیمی حقوق کے تحفظ کی شقیں بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں لڑائی ختم ہو گئی ہے اور معاہدے پر مثبت انداز میں عملدرآمد جاری ہے۔ گزشتہ روز سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی اس جامع معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کے لیے زور دیا تھا تاکہ شہریوں کی تکالیف کم کی جا سکیں اور داعش کے جنگجوؤں کے حراستی مراکز کے قریب سلامتی کے مسائل دور ہو سکیں۔
سلامتی کے نازک حالات
کلاڈیو کورڈونے کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ شام اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے داعش کے زیرحراست مشتبہ جنگجوؤں کی عراق منتقلی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس معاملے میں عراقی عدالتی کارروائیاں مکمل طور پر منصفانہ ہونی چاہئیں اور رکن ممالک اپنے شہریوں کی جلد از جلد وطن واپسی یقینی بنائیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ شمال مشرقی علاقے میں نسبتاً استحکام آیا ہے مگر دیگر علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ سویدا میں سرکاری افواج اور مقامی مسلح گروہوں کے درمیان دوبارہ جھڑپوں سے نقصان ہوا اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جبکہ خود ارادیت کے لیے مظاہرے بھی دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔
جنوبی شام میں اسرائیلی دراندازی اور تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ فضا سے جڑی بوٹی مار ادویات کے چھڑکاؤ سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام پر زور دیتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1974 کے ڈس انگیجمنٹ معاہدے کے خلاف جن علاقوں پر قابض ہے وہاں سے انخلا کرے۔
انسانی بحران برقرار
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کی مالیاتی ڈائریکٹر لیزا ڈاؤٹن نے کونسل کو بتایا کہ حالیہ جھڑپوں میں ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اگرچہ بہت سے لوگ واپس لوٹ آئے ہیں تاہم الحسکہ، الرقہ اور حلب میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد اب بھی بے گھر ہیں۔ ان میں 90 فیصد سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں ہیں جن کی بڑی تعداد پہلے ہی دباؤ کا شکار میزبان خاندانوں کے ساتھ یا گنجان کیمپوں میں مقیم ہے۔
رواں ہفتے ادلب اور شمالی لاذقیہ میں سیلاب سے دو بچے ہلاک اور تقریباً دو ہزار خیمے تباہ یا متاثر ہونے سے پانچ ہزار سے زیادہ بے گھر افراد متاثر ہوئے۔ ان حالات کے باوجود، شمال مشرقی علاقوں میں رسائی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ٹیموں نے دو لاکھ افراد کو مدد پہنچائی ہے اور 170 سے زیادہ امدادی ٹرک روانہ کیے ہیں۔
مشمولہ سیاسی عمل کی ضرورت
خصوصی نمائندے نے بتایا کہ انتقال اقتدار کا آئندہ اہم مرحلہ عوامی اسمبلی کی تشکیل ہے۔ زیادہ تر منتخب نشستوں کے لیے اکتوبر 2025 میں رائے شماری ہو چکی ہے جبکہ کچھ اضافی نشستیں ابھی پر کی جانا ہیں اور صدر احمد الشرح کی جانب سے 70 ارکان کی نامزدگی اور افتتاحی اجلاس کی تاریخ کے اعلان کا انتظار ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی عمل میں شام کے مختلف علاقوں اور متنوع گروہوں کی بامعنی نمائندگی یقینی بنانا نہایت اہم ہے۔ انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ خصوصاً لاپتا افراد کے مسئلے سے نمٹنا قابل اعتماد اور کامیاب سیاسی انتقال اقتدار کے بنیادی عناصر ہیں۔
خواتین کا غیر معمولی کردار
کلاڈیو کورڈونے کا کہنا تھا کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ جاری رہنے والے تنازع کے دوران شامی خواتین اور سول سوسائٹی نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ہر سطح پر خواتین کی سیاسی شمولیت ایک ایسے ریاستی نظام کی بنیاد ہے جو تنوع، شمولیت اور سبھی کے لیے مواقع کی ضمانت دیتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ وہ شامی عوام کو دہائیوں کے جبر اور ہولناک تنازع پر قابو پانے کے عزم پر سلام پیش کرتے ہیں اور مستحکم، پرامن اور خوشحال مستقبل کے حصول کے لیے شام کے ساتھ اقوام متحدہ کی شراکت کو مضبوط بنانے کے متمنی ہیں۔