سرطان سے بچوں کی اموات میں امیر اور غریب ممالک میں گہرا تفاوت
تین سال قبل دنیا بھر میں 15 سال سے کم عمر کے دو لاکھ سے زیادہ بچوں میں سرطان کی تشخیص ہوئی اور تقریباً 75 ہزار بچے اس مرض کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔
سرطان سے متعلق معلوماتی ادارے 'گلوبل کینسر آبزرویٹری' نے بتایا ہے کہ اگرچہ بچپن کے سرطان کی شرح شمالی امریکہ اور یورپ میں زیادہ ہے لیکن اس بیماری سے تقریباً 94 فیصد اموات افریقہ، ایشیا، جنوبی امریکہ اور غرب الہند میں ہوتی ہیں۔ ان خطوں میں بچوں کے سرطان سے ہلاک ہونے کا امکان یورپ اور شمالی امریکہ کے بچوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا زیادہ ہے۔
بچوں میں سرطان کے خلاف عالمی دن کے موقع پر سرطان کے حوالے سے تحقیق کرنے والے ادارے (آئی اے آر سی) نے آج 'سرو کین' کے نام سے اپنا ذیلی پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے جو اس بیماری سے بقا کی شرح کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے اور اس کی تحقیق خاص طور پر بچپن کے سرطان پر مرکوز ہے۔
زندہ بچنے کے امکانات
'آئی اے آر سی'میں سرطان کی نگرانی کے شعبے کی نائب سربراہ ڈاکٹر آئزابیل سورجومتارام کے مطابق، اگرچہ اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں 80 فیصد سے زیادہ بچے سرطان کی تشخیص ہونے کے بعد کم از کم پانچ سال تک زندہ رہتے ہیں، تاہم بعض کم اور متوسط درجہ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح صرف 37 فیصد تک رہ جاتی ہے۔ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ کسی بچے کی بقا کے امکانات اب بھی بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہیں کہ وہ کہاں پیدا ہوا ہے۔
23 ممالک میں سرطان سے متعلق 47 مراکز کے اعداد و شمار پر مبنی یہ پلیٹ فارم افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور غرب الہند سے آبادی کی سطح پر دستیاب معیاری اور جامع ترین معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سرطان کا شکار ہونے والے تقریباً 17 ہزار بچوں میں ایک، تین اور پانچ سال کی عمر تک بقا کی شرح کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے نتائج سے مختلف خطوں، ممالک، سرطان کی اقسام اور اس کے پھیلاؤ میں ترقی کی سطح کے اعتبار سے واضح عدم مساوات سامنے آئی ہے۔
بلحاظ خطہ
بچپن کے کینسر سے بقا کی سب سے کم شرح ذیلی صحارا افریقہ میں اور سب سے زیادہ وسطی امریکہ و غرب الہند میں ہے۔ یہ شرح قومی آمدنی اور انسانی ترقی کے اشاریے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔
بچوں میں سرطان کے ایک تہائی مریضوں کو لیوکیمیا لاحق ہوتا ہے تاہم، تین سالہ بقا کی شرح ذیلی صحارا افریقہ میں 40 فیصد سے بھی کم جبکہ غرب الہند اور وسطی امریکہ میں تقریباً 90 فیصد تک ہے۔
بلحاظ ممالک
اس حوالے سے دنیا بھر کے ممالک کے درمیان فرق بھی نہایت واضح ہے۔ مثال کے طور پر، وسطی و جنوبی امریکہ میں لیوکیمیا کا شکار بچوں میں تین سالہ بقا کی شرح میں نمایاں فرق پایا جاتاہے۔ پورٹوریکو میں یہ شرح 89 فیصد اور کوسٹا ریکا میں 85 فیصد سے زیادہ ہے جو کہ ایکواڈور میں تقریباً 50 فیصد رہ جاتی ہے۔
علاج معالجے کے رہنما اصولوں کو معیاری بنانے کی کوششوں کے باوجود تشخیص اور علاج تک رسائی اور صحت کے نظام کی صلاحیت میں فرق اس تفاوت کی بنیادی وجوہات ہیں۔
بچوں میں لیوکیمیا سرطان کی ایسی اقسام میں شامل ہے جن کا علاج ممکن ہے۔ اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں بروقت تشخیص اور موزوں کیموتھراپی کے نتیجے میں صحت یاب ہونے والے بچوں کی شرح 90 فیصد سے زیادہ دیکھی گئی ہے۔
بلحاظ اقسام
بقا کی شرح میں سرطان کی اقسام کے لحاظ سے بھی فرق پایا جاتا ہے۔ لڑکوں میں خصیوں کے سرطان اور لڑکیوں میں بیضہ دانی کے سرطان سے بقا کی شرح (تین سال میں 79 سے 94 فیصد تک) نسبتاً بہتر ہے۔ اس سے برعکس دماغی رسولیوں کے حوالے سے نتائج میں فرق پایا جاتا ہے۔ کولمبیا میں یہ شرح 38 فیصد اور پورٹو ریکو میں 80 فیصد تک ہے۔
آنکھ کے سرطان، گردوں کے ٹیومر اور جلد کے سرطان میں بقا کے امکانات تقریباً ہر جگہ بہتر ہیں۔ مثال کے طور پر آنکھ کے سرطان میں مبتلا ہونے والوں کی بقا کی شرح ایشیا میں 94 فیصد اور غرب الہند میں 91 فیصد ہے۔ روانڈا میں ہڈیوں کے ٹیومر کی شرح صرف 36 فیصد ہے۔ سب سے زیادہ تفاوت خون کے سرطان اور لیوکیمیا میں دیکھا گیا جس کا تعلق تشخیص اور علاج تک رسائی سے ہے۔
سنگین عدم مساوات
یہ تمام شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اگر جامع طبی سہولیات دستیاب ہوں تو 80 فیصد سے زیادہ بچوں کا علاج ممکن ہے۔
'آئی اے آر سی' میں سرطان کی نگرانی کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر فریڈی برے کے مطابق، کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں بچوں کو کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ تاخیر سے تشخیص، محدود علاج، دوران علاج اموات، علاج میں تعطل اور بیماری کے دوبارہ ظاہر ہونے جیسے عوامل بقا کی شرح میں کمی کا سبب بنتے ہیں۔
اگرچہ اس حوالے سے کچھ مثبت پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن یہ تفاوت سرطان میں مبتلا بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے عالمی سطح پر سنگین عدم مساوات کو اجاگر کرتی ہے۔