جانیے کہ مصنوعی ذہانت پر امیر ملکوں کی اجارہ داری کیسے ختم ہو رہی ہے
مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اب صرف خوشحال مغربی ممالک کا اجارہ نہیں رہا بلکہ جنوبی دنیا میں بھی صحت، زراعت اور صنعت سمیت متعدد شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کی زندگی میں انقلابی تبدیلی آ رہی ہے۔
چارہ کاٹنے والی مشینیں نہایت خطرناک ہوتی ہیں۔ ان میں بڑے گول بلیڈ تیز رفتار سے گھومتے ہیں جو عموماً چھوٹے جنریٹروں سے چلائے جاتے ہیں۔ پاکستان، انڈیا اور کینیا سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں دیہی مزدور ان مشینوں کو چلاتے ہیں جن کے سر پر حادثات کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔ ایسے بہت سے افراد ان مشینوں کی زد میں آ کر اپنے ہاتھوں اور بازوؤں سے محروم ہو جاتے ہیں۔
ایسی صورت میں ان لوگوں کے لیے فصل کاٹنے، آٹا گوندھنے اور کڑھائی سلائی سمیت بہت سے روزمرہ کام اچانک ناممکن ہو جاتے ہیں۔ ہزاروں خواتین اپنی خودمختاری، روزگار اور سماجی شمولیت سے بھی محروم ہو جاتی ہیں۔ اگر ان لوگوں کو مصنوعی اعضا میسر آئیں تو ان کی زندگی دوبارہ معمول پر آ سکتی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک جدید مصنوعی اعضا ان لوگوں کی پہنچ سے باہر تھے۔ تاہم اب مقامی سطح پر تیار کی گئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی نے ان کے لیے انہی جدید سہولیات کا حصول ممکن بنا دیا ہے جو پہلے صرف خوشحال ممالک میں دستیاب تھیں۔
ٹیکنالوجی سے جسمانی معذوری کا خاتمہ
پاکستان کے شہر کراچی میں قائم بائیونکس ٹیکنالوجی نامی ادارے نے یو این ویمن کے تعاون سے صوبہ سندھ کے متعدد اضلاع میں کام کرنے والی ایسی خواتین مزدوروں کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ مصنوعی بازو بنائے اور فراہم کیے ہیں جو ایسے حادثات میں اعضا سے محروم ہو گئی تھیں۔
اس منصوبے میں جدید ٹیکنالوجی، تھری ڈی ماڈلنگ، ڈیجیٹل سکیننگ اور مصنوعی ذہانت سے استفادہ کیا گیا تاکہ ہلکے، مضبوط اور آسانی سے استعمال ہونے والے بایونک بازو تیار کیے جا سکیں اور ان کی بدولت لوگوں کو روزمرہ امور انجام دینے میں مدد ملے۔
بائیونکس کی شریک بانی عائشہ ذوالفقار کہتی ہیں کہ یو این ویمن کے اشتراک سے ادارے نے لوگوں کو جدید مصنوعی بازو فراہم کیے، انہیں استعمال کرنے کی تربیت دی، نفسیاتی معاونت فراہم کی اور آگاہی کے سیشن منعقد کیے تاکہ لوگ محفوظ طریقہ کار اپنائیں اور آئندہ ایسے حادثات سے بچ سکیں۔
مصنوعی ذہانت کے اثرات پر عالمی کانفرنس
یہ اقدام اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب مصنوعی ذہانت جنوبی دنیا کے اختراع کاروں کی دسترس میں ہو تو کیا کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے لیے مصنوعی ذہانت کو سب کے لیے قابل رسائی بنانا ایک اہم ترجیح ہے تاکہ اس تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کو اخلاقی بنیادوں پر فروغ دیا جائے اور اس کے فوائد پوری دنیا کے لوگوں تک پہنچ سکیں۔
اسی مقصد کے تحت آئندہ ایام میں'انڈیا اے آئی امپیکٹ کانفرنس' کا انعقاد ہونے جا رہا ہے جو کہ جنوبی دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا پروگرام ہے۔
کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور ڈیجیٹل و نئی ٹیکنالوجی پر ان کے خصوصی نمائندے امن دیپ گل بھی شرکت کریں گے۔
مساوی رسائی کی کوششیں
امن دیپ گل نے کہا ہے کہ کہ اقوام متحدہ کی توجہ مصنوعی ذہانت تک رسائی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خلا کو کم کرنے پر مرکوز ہے۔ اس کا مطلب خوشحال اور ترقی پذیر معیشتوں کے درمیان اور رکن ممالک کے اندر امیر و غریب طبقات کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنااور مصنوعی ذہانت کو سب کے لیے زیادہ سے زیادہ قابل رسائی بنانا ہے۔ اگرچہ یہ کانفرنس اقوام متحدہ کا باضابطہ پروگرام نہیں تاہم، امن دیپ گل اس کے ایجنڈے کی تشکیل میں شامل رہے ہیں اور اسے مصنوعی ذہانت کے عالمگیر انتظام کی سمت ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے شعبے میں مساوی ترقی، صلاحیت سازی اور شہریوں کو جمہوری انداز میں اس ٹیکنالوجی میں شامل کرنے پر توجہ دینا نہایت حوصلہ افزا ہے۔
کانفرنس میں کیا ہو گا؟
- یہ کانفرنس 16 تا 20 فروری انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہو گی۔
- اس میں عالمی رہنما، پالیسی ساز، ٹیکنالوجی کمپنیاں، اختراع کار اور ماہرین شرکت کریں گے اور انتظام، جدت اور پائیدار ترقی میں مصنوعی ذہانت کے امکانات پر غور کریں گے۔
- سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش 19 فروری کو کانفرنس سے خطاب کریں گے۔
- اس میں اقوام متحدہ کے متعدد اداروں کی جانب سے ضمنی تقریبات کا انعقاد بھی ہو گا اور سماجی بھلائی کے لیے اے آئی کے استعمال کی مثالیں پیش کی جائیں گی۔
اقوام متحدہ اور مصنوعی ذہانت
- عالمی ڈیجیٹل معاہدہ، جس کی منظوری 2024 میں ہونے والی کانفرنس برائے مستقبل میں دی گئی۔
- اقوام متحدہ کے نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی اخلاقیات سے متعلق اصولوں کی منظوری۔
- اعلیٰ سطحی مشاورتی ادارہ برائے مصنوعی ذہانت اور اس ٹیکنالوجی کے عالمگیر انتظام سے متعلق مکالمے کا آغاز۔
- مصنوعی ذہانت برائے اچھائی پلیٹ فارم، جو پائیدار ترقی کے اہداف تک پہنچنے کے لیے اے آئی پر مبنی طریقہ کار کو فروغ دیتا ہے۔
- یونیسکو کی سفارشات (2021) برائے اے آئی اخلاقیات، جنہیں تمام 193 رکن ممالک نے منظور کیا۔
- یونیسف کے زیرقیادت جنریشن اے آئی اقدام، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کی ترقی میں بچوں کے حقوق کا تحفظ مقدم رکھنا ہے۔