انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان اور ایران سے وطن لوٹنے والے 54 لاکھ افغان مسائل کا شکار

ہزاروں افغان، جن میں بچوں کے ساتھ خاندان بھی شامل ہیں، ہرات صوبے میں اسلام قلعہ سرحد کے ذریعے افغانستان میں واپس جا رہے ہیں، وہ اپنے ساتھ کم سے کم سامان لے کر جا رہے ہیں کیونکہ انہیں ایران سے بے دخل کیا گیا ہے یا بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی وجہ سے ایران چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
© UNHCR/Oxygen Empire Media Production
ایک افغان خاندان ایران سے افغانستان میں اسلام قلعہ سرحد پار کر رہا ہے۔

پاکستان اور ایران سے وطن لوٹنے والے 54 لاکھ افغان مسائل کا شکار

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ پاکستان اور ایران سے افغان مہاجرین نہایت مشکل حالات میں واپس آ رہے ہیں جس سے افغانستان میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

ادارے نے بتایا ہے کہ رواں سال دونوں ممالک سے اب تک تقریباً ڈیڑھ لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جاچکا ہے۔ گزشتہ سال 29 لاکھ افراد کی واپسی ہوئی جبکہ اکتوبر 2023 سے اب تک ایسے افغانوں کی مجموعی تعداد 54 لاکھ ہو چکی ہے۔

Tweet URL

اس قدر تیز رفتار اور بڑے پیمانے پر مہاجرین کی واپسی نے افغانستان کے بحران کو مزید شدید بنا دیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، اس صورتحال میں ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے اور گزشتہ سال فی کس مجموعی ملکی پیداوار میں چار فیصد کمی دیکھنے کو ملی۔ 

'یو این ایچ سی آر' کے مطابق، 2026 کے آغاز پر سخت سردی کے موسم میں اس قدر بڑی تعداد میں واپسی تشویش ناک ہے جب ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے اور شدید برف باری ہوتی ہے۔

دوبارہ نقل مکانی کا رجحان

واپس آنے والے افغان مہاجرین میں نصف سے زیادہ لوگوں نے بتایا کہ انہیں کسی نہ کسی نوعیت کا روزگار مل گیا ہے جبکہ خواتین کے لیے یہ شرح ایک چوتھائی سے بھی کم ہے۔ نصف سے زیادہ خاندانوں کے پاس شہریت کی دستاویزات موجود نہیں ہیں اور 90 فیصد سے زیادہ گھرانے روزانہ 5 ڈالر سے بھی کم آمدنی پر گزارا کر رہے ہیں۔

'یو این ایچ سی آر' کے جائزے میں شامل 5 فیصد افراد نے کہا کہ وہ دوبارہ افغانستان چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ 10 فیصد سے زیادہ نے بتایا کہ ان کے کسی عزیز یا برادری کے فرد نے واپسی کے بعد دوبارہ ملک چھوڑ دیا ہے۔ ان فیصلوں کا سبب ملک چھوڑنے کی خواہش نہیں بلکہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ دوبارہ باعزت اور مستحکم زندگی شروع کرنے سے قاصر ہیں۔

ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ 2025 میں واپس آنے والوں کی سماجی و معاشی صورتحال بدل رہی ہے کیونکہ ان میں تعلیم کی سطح اور روزگار کا تجربہ دیگر لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اگر انہیں پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنی مہارتوں اور تجربے کو بروئے کار لا کر حالات کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اضافی امداد کی ضرورت 

امسال 'یو این ایچ سی آر' کی توجہ واپس آنے والوں کی سماجی و معاشی بحالی پر مرکوز ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان میں اپنی رسائی، موجودگی اور تجربے کی بنیاد پر ادارہ ایسی معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

'یو این ایچ سی آر' اقوام متحدہ کے دیگر اداروں اور شراکت داروں کے تعاون سے خطے کی صورت حال کا بغور جائزہ لے رہا ہے جہاں پناہ گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے اور باقاعدہ ہجرت کے راستے محدود ہو رہے ہیں۔ ادارے نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ تک رسائی کو یقینی بنائیں، افغان مہاجرین کو تحفظ اور مدد فراہم کریں اور کسی بھی فرد کو ایسی جگہ واپس نہ بھیجیں جہاں اس کے حقوق اور آزادیوں کو خطرہ ہو۔

سنگین انسانی بحران اور تیزی سے بڑھتی آبادی کے پیش نظر 2026 کے لیے اضافی امداد درکار ہے تاکہ معاونت کو وسعت دی جا سکے اور بحالی میں سرمایہ کاری ہو سکے۔ رواں سال افغانستان بھر میں بے گھر افراد اور واپس آنے والوں کی مدد کے لیے ادارے کو 21 کروڑ 60 لاکھ ڈالر درکار ہیں جبکہ فی الوقت امدادی اپیل پر صرف 8 فیصد وسائل ہی فراہم ہو سکے ہیں۔