مہاجر بچوں کو جبری مشقت سے بچانے کے لیے عالمی تعاون پر زور
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کی کوششوں میں ہجرت اور انسانی سمگلنگ جیسے مسائل کو خاص اہمیت دیں اور بچوں کی حفاظت کے لیے مستند و تفصیلی معلومات، تحقیق اور سرحد پار تعاون کو فروغ دینے کے اقدامات اٹھائیں۔
بچوں سے لی جانے والی جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق مراکش میں منعقدہ چھٹی عالمی کانفرنس میں ادارے کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے لاکھوں بچے سمگلنگ اور استحصال کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہیں۔ مگر عالمی پالیسیوں اور تحفظ کے نظام میں انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ تمام ممالک کو فوری طور پر سرحدوں اور شعبہ جات کی حدود سے ماورا ہو کر ان تشویشناک مسائل کو حل کرنا اور یقینی بنانا ہو گا کہ ہر جگہ ہر بچہ محفوظ ہو۔
11 فروری کو شروع ہونے والی یہ سہ روزہ کانفرنس مراکش کی حکومت اور عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے اشتراک سے منعقد کی گئی ہے جس میں حکومتوں، اقوام متحدہ کے اداروں، کاروباری حلقوں، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے نمائندے بچوں کی جبری مشقت کا خاتمہ کرنے کے اقدامات کو تیز کرنے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
تیس ہزار نوعمر متاثرین
'آئی او ایم' کے مطابق، دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ کے ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ متاثرین کی باضابطہ نشاندہی ہو چکی ہے، تاہم ایسے تمام واقعات کی اطلاعات سامنے نہ آنے اور نشاندہی کے نظام میں خامیوں کے باعث اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان متاثرین میں تقریباً 30 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔
کانفرنس میں ادارے نے خطرات کی نشاندہی، انسدادی اقدامات کی رہنمائی اور مخصوص اہداف پر مرتکز حکمت عملی کی تشکیل کے لیے تفصیلی و مستند معلومات اور تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔
'آئی او ایم' اور ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بچوں کی سمگلنگ سے متعلق اعداد و شمار پر مبنی مشترکہ تحقیق سمیت متعدد شواہد بچوں سے جبری مشقت لیے جانے، ہجرت اور انسانی سمگلنگ کے درمیان پیچیدہ تعلق کو اجاگر کرتے ہیں۔
نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچوں کے تحفظ، ہجرت اور انسداد سمگلنگ کے طریقہ ہائے کار کے درمیان زیادہ ہم آہنگی اور پالیسی سازوں، محققین اور ماہرین کے مابین مربوط تعاون کی ضرورت ہے۔
حقوق پر مبنی حکمت عملی
ادارے نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے حقوق پر مبنی اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور سیو دی چلڈرن اور یونیسف کے ساتھ مہاجر بچوں کے تحفظ سے متعلق مشترکہ عالمی پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔
کانفرنس میں بتایا گیا کہ افریقہ میں حکومتوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے ہجرت کے راستوں پر بچوں کو درپیش خطرات کم کرنے کے طریقے وضع کیے جا رہے ہیں۔
'آئی او ایم' نے واضح کیا کہ ایسی پالیسیوں اور پروگراموں کی حمایت کے لیے شراکتوں میں مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہے جو استحصال کی روک تھام کریں اور غیرمحفوظ بچوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ ایسے مضبوط عالمی اشاریوں کی تیاری بھی ناگزیر ہے جو ہجرت اور انسانی سمگلنگ سے متعلق زمینی حقائق کی عکاسی کرتے ہوں۔
کانفرنس میں نوجوانوں کا تیار کردہ پلیٹ فارم 'واکا ویل' متعارف کرایا گیا جو افریقہ بھر کے نوجوانوں کو محفوظ اور آگاہی پر مبنی ہجرت سے متلعق فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔