انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پرتشدد انتہا پسندی سلامتی کے ساتھ ساتھ سماجی مسئلہ بھی، الیگزینڈر زویف

ایک 13 سالہ لڑکی ، ایلوڈی ، کیمرے کے سامنے اپنی پیٹھ کے ساتھ کھڑی ہے اور ایک جعلی ہتھیار تھامے ہوئے ، جو اس کے سفر کی علامت ہے ، جس کا تعلق بالاکا مخالف مسلح گروپ سے باورو ، وسطی افریقی جمہوریہ میں بحالی اور دوبارہ شمولیت سے ہے۔
© UNICEF/Vlad Sokhin
وسطی جمہوریہ افریقہ میں ایک 13 سالہ بچی جس کا اب کسی مسلح گروہ سے تعلق نہیں ایک کھلونا بندوق اٹھائے ہوئے ہے۔

پرتشدد انتہا پسندی سلامتی کے ساتھ ساتھ سماجی مسئلہ بھی، الیگزینڈر زویف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی کے قائمقام انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر زویف نے کہا ہے کہ پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام محض سلامتی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ بہت سے معاشروں کو درپیش ایک بڑا سماجی مسئلہ بھی ہے۔

انڈر سیکرٹری جنرل نے اس عالمی دن پر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی سرگرمیوں کا ذکر کیا جن میں دفتر برائے انسداد دہشت گردی اور اقوام متحدہ میں عراق کے مستقل مشن کے اشتراک سے منعقدہ ایک اجلاس بھی شامل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں کہا گیا کہ ڈیجیٹل تبدیلی نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کے ماحول کو نئی شکل دی ہے اور اس میدان میں معاشرے کے تمام طبقات کے باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

انہوں نے دہشت گردی کی شکل اختیار کرنے والی پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کو پیدا کرنے اور اس سے نمٹنے میں 'ابھرتی ہوئی اور نئی ٹیکنالوجی' کا استعمال امسال اس دن کا خاص موضوع ہے۔

پرتشدد انتہاپسندی اور مصنوعی ذہانت 

ٹیکنالوجی بشمول مصنوعی ذہانت انسداد انتہا پسندی کے حوالے سے حقیقی امکانات رکھتی ہے جس میں نقصان دہ اظہار کی فوری نشاندہی سے لے کر معاشرے کی جانب سے ایسے رجحانات کے خلاف زیادہ موثر اور باخبر مداخلت تک بہت سے اقدامات شامل ہیں۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہی ٹیکنالوجی غلط استعمال بھی ہو رہی ہے جسے گمراہ کن اطلاعات اور جھوٹی خبریں پھیلانے، پرتشدد انتہا پسندانہ مواد کی تشہیر اور خصوصاً نوجوانوں کی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے لیے بھرتی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے کام میں لایا جا رہا ہے۔

الیگزنڈر زویف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مہیا کردہ مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ خطرات کا شفاف اور جوابدہ انداز میں سدباب بھی کرنا ہو گا اور یہ سب کچھ انسانی حقوق کے مکمل احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ایک اور اجلاس بعنوان 'اصولوں سے عمل تک: پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام و انسداد اور مصنوعی ذہانت' میں فیصلہ ہوا کہ دفتر کی جانب سے اس مسئلے پر رہنما کتابچہ جاری کیا جائے گا۔

انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی

الیگزنڈر زویف نے تصدیق کی کہ ان کا دفتر رکن ممالک کو اس مسئلے پر عملی معاونت فراہم کرنے کے اقدامات کو وسعت دے رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں ابھرتے ہوئے خطرات اور مصنوعی ذہانت اور الیکٹرانک گیمنگ سے متعلق نئے رجحانات کا موثر انداز میں مقابلہ کر سکیں جبکہ شواہد پر مبنی روک تھام کی حکمت عملی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔

رواں سال کے آخر میں رکن ممالک انسداد دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کی عالمی حکمت عملی کا نواں جائزہ لیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ یہ اہم مرحلہ اس حوالے سے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں بدلتے خطرات کا جائزہ لیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ ہمارے اقدامات مستقبل کی ضروریات کے مطابق، متوازن اور موثر ہوں۔