سوات میں سیلاب سے متاثرہ 120 سکولوں کی بحالی میں یونیسکو مددگار
اقوام متحدہ کا تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارہ (یونیسکو) پاکستان کے شمال مغربی ضلع سوات میں گزشتہ سال سیلاب سے متاثر ہونے والے لڑکیوں کے 120 سکولوں کی بحالی میں مدد دے رہا ہے جس سے 12 ہزار طالبات کو محفوظ ماحول میں تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
2025 میں مون سون کے موسم میں آنے والے سیلاب میں یہ سکول زیرآب آ گئے تھے، تاہم مخدوش حالات کے باوجود بہت سے دیہات میں لڑکیوں نے تعلیم ترک نہیں کی اور سکول آتی رہیں۔
یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل خالد العنانی نے کہا ہے کہ ادارہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ قومی اور مقامی حکام، شہریوں اور شراکت داروں کے تعاون سے سکولوں کی مرمت، تحفظ اور انہیں موسمیاتی لحاظ سے مضبوط بنانے کے لیے تعاون کو بڑھایا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو صاف پانی اور صفائی کی سہولیات ملنی چاہئیں۔ سکولوں کی عمارتیں محفوظ ہونی چاہئیں اور طلبہ کو نفسیاتی معاونت میسر آنی چاہیے۔
مرمت سے تحفظ تک
یونیسکو کے جائزے کے مطابق، سوات کے علاقے بحرین، چارباغ، خوازہ خیلہ اور مٹہ میں واقع لڑکیوں کے یہ سرکاری پرائمری سکول بے حد خستہ حال ہو چکے ہیں۔ تقریباً 50 فیصد سکولوں کی چھتیں خراب ہیں جبکہ ایک تہائی کی چار دیواری گر گئی ہے۔ ایک چوتھائی سکولوں میں پینے کے صاف پانی میسر نہیں جبکہ ایک تہائی سے زیادہ ایسے ہیں جہاں بیت الخلا کی سہولت باقی نہیں رہی۔ خاص طور پر نوعمر طالبات کے لیے ناقص بیت الخلا محض مسئلہ نہیں بلکہ ان کی غیرموجودگی لڑکیوں کے سکول چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ بھی ہوتی ہے۔
یونیسکو کے مطابق، زیادہ تر سکولوں میں نفسیاتی اور سماجی معاونت کا کوئی موثر نظام موجود نہیں۔ اسی وجہ سے بچے خصوصاً لڑکیاں سیلاب کے بعد خوف اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے درکار سہولت سے محروم ہیں۔
ان حالات کے باوجود مقامی لوگوں نے اپنے بچوں کو سکولوں سے نہیں اٹھایا۔ سوات بھر میں والدین اور اساتذہ کی کونسلیں اور سکولوں کا عملہ حالات کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں اور باہم مل کر یہ طے کر رہے ہیں کہ لوگوں کے لیے کیا چیز سب سے زیادہ اہم ہے۔
والدین کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سکولوں کو محفوط بنایا جائے۔ یہ محض مرمت کا معاملہ نہیں بلکہ ایسا تحفظ ہے جو والدین کو اعتماد دیتا ہے کہ ان کی بیٹیاں بلا خوف و خطر سکول جا سکیں۔
طالبات کی ثابت قدمی
یونیسکو کے جائزے میں خاص طور پر دریاؤں کے کنارے، ندی نالوں کے قریب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں میں واقع سکولوں کی مضبوط تعمیر نو پر زور دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب سکولوں میں بجلی کی فراہمی اور کمرہ ہائے جماعت کی بحالی، پانی اور صفائی کی سہولیات مہیا کرنا، بچوں کے لیے نفسیاتی معاونت کی فراہمی اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانا ہے تاکہ آئندہ کسی قدرتی آفت کے وقت سکول پہلے سے زیادہ محفوظ ہوں۔
سوات کی طالبات نے اس آفت کے بعد بھی تعلیم جاری رکھ کر اپنی ثابت قدمی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ موسمیاتی لحاظ سے مضبوط تعمیرنو اس عزم کو محفوظ کمرہ ہائے جماعت، معاون ماحول اور اس اعتماد کے ذریعے تقویت دے گی کہ آئندہ کوئی بھی قدرتی آفت ان کی تعلیم کو نقصان نہ پہنچا سکے۔