امریکی امیگریشن حکام کے مبینہ مہلک ہتھکنڈوں پر یو این ماہرین کو تشویش
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے شہر منیاپولس میں امیگریشن حکام کی جانب سے مہلک طاقت کا استعمال لوگوں کو زندگی کے حق سے ناجائز طور پر محروم کرنے، انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور ماورائے عدالت قتل کے مترادف ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے کی کارروائیوں کے دوران کسی بھی انسانی جان کا ضیاع ممکنہ طور پر غیر قانونی ہلاکت سمجھا جانا چاہیے اور اس سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور طاقت کے استعمال سے متعلق ضوابط کی پاسداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
ایسے اقدامات کی فوری اور موثر تحقیقات ہونا چاہئیں جن میں کوتاہی بذات خود زندگی کے حق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات 'ممکنہ غیرقانونی اموات کی تحقیقات سے متعلق منیسوٹا پروٹوکول' کے مطابق کی جائیں جو اس نوعیت کی اموات کی تحقیقات کے لیے موجودہ عالمی معیار ہے اور ان میں قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں کا تعاون بھی شامل ہو۔
7 اور 24 جنوری کو منیاپولس میں غیرقانونی تارکین وطن کی گرفتاری اور ملک بدری کے لیے کیے جانے والے 'آپریشن میٹرو سرج' سے منسلک ایک بڑے امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران امریکہ کے دو شہریوں کو وفاقی امیگریشن اہلکاروں نے قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
امریکی حکام کے تشویشناک بیانات
ماہرین نے کہا ہے کہ انہیں امریکہ کے بعض اعلیٰ حکام کے ان بیانات پر شدید تشویش ہے جن میں متاثرین کو داخلی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کھلے عام کہا گیا کہ مہلک طاقت کا استعمال ضروری تھا۔
آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی تکمیل سے پہلے اس طرح کے بیانات اہم حقائق اور قانونی نکات پر پیشگی رائے قائم کرنے کے مترادف ہو سکتے ہیں، ان سے عوامی اعتماد مجروح ہو سکتا ہے اور یہ تحقیقاتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حکام کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو تحقیقات کی آزادی اور غیر جانب داری کو نقصان پہنچائیں۔
ماہرین کے مطابق، فائرنگ کے دو مہلک واقعات کے علاوہ غیرقانونی تارکین وطن، پرامن مظاہرین اور راہگیروں کے خلاف حد سے زیادہ طاقت کا استعمال، قانونی تقاضوں کی عدم پاسداری اور ناجائز انداز میں لوگوں کو آزادی سے محروم کر کے بھی انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عدالتی وارنٹ کے بغیر فوجی انداز میں چھاپے، نسلی امتیاز کی بنیاد پر کارروائیاں اور سکولوں، ہسپتالوں کے اطراف سخت جانچ پڑتال انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے اور اس سے قانونی مبصرین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
نفاذ قانون اور طاقت کا استعمال
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کے تحت، قانون نافذ کرنے والے اہلکار طاقت اور اسلحہ اسی وقت استعمال کر سکتے ہیں جب ایسا کرنا ناگزیر ہو اور یہ اقدام بھی آخری چارے کے طور پر استعمال کیا جائے جب زندگی کو تحفظ دینے کے لیے اس سے بچنا ممکن نہ ہو۔ اجتماعات اور مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لازم ہے کہ وہ طاقت کے استعمال سے پہلے تناؤ کم کرنے، مکالمے اور پرامن طریقوں کو ترجیح دیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے امریکہ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی قتل یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو موثر قانونی چارہ جوئی اور ازالے تک رسائی حاصل ہونی چاہیے اور انہیں کسی بھی طرح کی انتقامی کارروائی سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی میں کمی لانے، زندگی کے حق اور بنیادی آزادیوں کے احترام اور واضح احتساب کو یقینی بنانے کے اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید وسیع پیمانے پر تشدد میں بدل سکتے ہیں۔
ماہرین امریکی حکام کے ساتھ تعمیری انداز میں تعاون کے لیے تیار ہیں تاکہ انسانی حقوق سے متعلق فرائض کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔