اسرائیل فلسطینی علاقوں پر تسلط بڑھانا بند کرے، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی پر تسلط بڑھانے سے متعلق اپنے حالیہ اقدامات واپس لے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام کے اس اقدام کا مقصد قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنانا ہے جو فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر ان فیصلوں پر عملدرآمد ہوا تو فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے مزید محروم کرنے اور انہیں جبری طور پر بے دخل کیے جانے کا عمل تیز ہو جائے گا اور مزید غیر قانونی اسرائیلی بستیاں قائم ہوں گی۔
اس طرح فلسطینی شہری اپنے قدرتی وسائل سے مزید محروم ہو جائیں گے اور ان کا اپنے انسانی حقوق سے استفادہ بھی محدود ہو جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسرائیلی بستیاں خالی کی جائیں اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ فوری ختم کیا جائے۔
اسرائیل کا بڑھتا تسلط
8 فروری کو اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے اقدامات کے ایک مجموعے کی منظوری دی تھی جس کے تحت مغربی کنارے کے علاقوں اے اور بی میں اسرائیلی سول اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا۔ یہ دونوں مغربی کنارے کا تقریباً 40 فیصد حصہ ہیں۔
1990 کی دہائی میں اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے مابین طے پانے والے اوسلو معاہدوں کے مطابق، ان میں سے بعض اختیارات فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
نئے اقدامات کے تحت قانون میں تبدیلی کی جائے گی تاکہ اسرائیلی حکام اور شہریوں کو اے اور بی علاقوں میں زمین حاصل کرنے کی اجازت مل سکے جبکہ ایسا کرنا بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔
وولکر ترک نے کہا ہے کہ یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے تسلط اور اسے اپنے ساتھ ضم کرنے کے عمل کو مزید مستحکم کرے گا جو غیر قانونی الحاق کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
فلسطینیوں کے ثقافتی حقوق کی پامالی
ان فیصلوں کے تحت جنوبی مغربی کنارے کے شہر الخلیل (ہیبرون) کے بعض حصوں میں فلسطینی اتھارٹی سے منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات بھی واپس لے لیے جائیں گے۔ ان علاقوں میں مسجد ابراہیمی بھی شامل ہے جو اسلام، یہودیت اور عیسائیت تینوں مذاہب کے لیے مقدس مقام ہے۔ اسرائیل بیت اللحم میں واقع ایک اور مقدس مقام، مقبرہ راحیل پر بھی انتظامی کنٹرول قائم کرے گا تاکہ بستیوں کی توسیع کو تیز کیا جا سکے۔
ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ یہ فیصلے نہ صرف فلسطینیوں کے زمینی حقوق بلکہ ایسے مقامات کے حوالے سے ان کے ثقافتی حقوق کی پامالی بھی ہیں جو ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ نئے اقدامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ علاوہ ازیں، فلسطینیوں کی اپنے علاقوں سے جبری بے دخلی، مکانات کی مسماری، زمینوں پر قبضہ، نقل و حرکت پر پابندیاں اور دیگر خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔
وولکر ترک کا کہنا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی ساخت کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کے تیز رفتار اقدامات واضح ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو ان کی زمینوں سے محروم کر کے انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
یہ عمل اسرائیلی حکام کے بیانات اور اقدامات سے تقویت پا رہا ہے اور بطور قابض طاقت اس ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے کہ وہ موجودہ قانونی نظام اور سماجی ڈھانچے کو برقرار رکھے۔