انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شعبہ سائنس میں گریجویٹ خواتین کا تناسب صرف 35 فیصد کیوں؟

ویلیریا Palacios، میکسیکو میں ایک نوجوان خاتون انجینئر، ایک بیرونی میدان میں ڈرون ٹیسٹ کر رہی ہے۔
Cortesía Valeria Palacios
میکسیکو میں ایک نوجوان انجینیئر ڈرون تیار کرتے ہوئے۔

شعبہ سائنس میں گریجویٹ خواتین کا تناسب صرف 35 فیصد کیوں؟

خواتین

اگرچہ خواتین نوجوان مردوں کے مقابلے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی زیادہ خواہش رکھتی ہیں لیکن تحقیق کے لیے ناکافی وسائل، صنفی تعصبات اور امتیازی دفتری رویوں کے باعث سائنس کے شعبے میں گریجوایٹ خواتین کا تناسب صرف 35 فیصد ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ یہ فرق ٹیکنالوجی کے میدان میں زیادہ نمایاں ہے جہاں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خواتین کی نمائندگی صرف 26 فیصد ہے جبکہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں یہ شرح محض 12 فیصد نظر آتی ہے۔

Tweet URL

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ خواتین کو سائنس کے شعبے سے باہر رکھنے کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی، صحت عامہ اور خلائی سلامتی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے دنیا کی اجتماعی صلاحیت کمزور پڑتی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے فروغ سے لے کر آئندہ وباؤں کی روک تھام تک، دنیا کا مستقبل زیادہ سے زیادہ انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر منحصر ہے۔ آج اور ہر روز یہ یقینی بنانا چاہیے کہ خواتین اور لڑکیاں اپنی سائنسی امنگوں کو پورا کر سکیں۔ یہ ناصرف ان کے حق بلکہ اجتماعی بھلائی کا معاملہ بھی ہے۔ 

جامع اور پائیدار ترقی کا ذریعہ 

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ معاشرے بڑھتی ہوئی عدم مساوات سے نبرد آزما ہیں اور ایسے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سماجی علوم، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی (سٹیم) اور مالیات کا باہمی امتزاج جامع اور پائیدار ترقی کو تیز کرنے کا موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس حکمت عملی کو آج منائے جانے والے خواتین اور لڑکیوں کے عالمی یوم سائنس کے موقع پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔

ان چار شعبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے سے کئی بڑی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جیسا کہ ڈیجیٹل مہارتوں میں صنفی فرق کو کم کرنا، خواتین کی قیادت میں نئے کاروباروں کا فروغ، صنفی اعتبار سے حساس مصنوعی ذہانت کی ترقی اور ایسے مالی وسائل جمع کرنا جو سماجی شمولیت کو کارکردگی کا معیار بنائیں۔

لڑکیوں کی حوصلہ افزائی 

کرغیزستان سے تعلق رکھنے والی کیمیا دان اور کاروباری شخصیت عسیل سارتبائیوا سائنس کے شعبے میں آگے بڑھنے اور لڑکیوں کو اس کی ترغیب دینے والی نمایاں شخصیت ہیں۔ وہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ کے شعبہ کیمیا میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی کمپنی اینسیلی ٹیک کی شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ہیں۔

ان کی تحقیق عالمگیر صحت عامہ کے ایک دیرینہ مسئلے کا حل تلاش کرنے پر مرکوز ہے کہ ویکسین کی افادیت کو زیادہ درجہ حرارت پر برقرار رکھا جائے تاکہ اسے پیچیدہ ریفریجریشن کے بغیر دور دراز علاقوں تک پہنچایا جا سکے۔

سارتبائیوا اپنی تحقیق کے علاوہ کرغیزستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے 'گرلز ان سائنس' پروگرام کی سفیر کے طور پر بھی کام کرتی ہیں جہاں وہ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم اور سٹیم کے شعبوں میں کیریئر بنانے کی ترغیب دیتی ہیں۔

انہوں نے یو این نیوز کو بتایا کہ بہت سے علاقوں میں کسی لڑکی کے مستقبل سے متعلق فیصلے اس کے خاندان، خاص طور پر والد کی رائے سے متاثر ہوتے ہیں۔ اکثر والدین، خاص طور پر والد کو یہ فکر ہوتی ہے کہ اگر ان کی بیٹیاں سائنس کے شعبے میں جائیں گی تو شاید وہ خاندان نہ بنا سکیں۔

لہٰذا ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ثابت کرنا ہے کہ ایسی سوچ درست نہیں۔ لڑکیاں بیک وقت خاندان اور کیریئر بنا سکتی ہیں اور دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔

یونیسف کی کاوش 

یونیسف کا یہ پروگرام اعلیٰ سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے ساتھ رہنمائی، ابلاغی تربیت اور خود اعتمادی بڑھانے کی سرگرمیوں کو بھی یکجا کرتا ہے۔ ہزاروں لڑکیاں اس میں حصہ لے چکی ہیں جن میں سے بیشتر نے بعد ازاں یونیورسٹی میں سٹیم کے شعبوں میں تعلیم حاصل کی۔

سارتبائیوا کا خیال ہے کہ سائنس میں خواتین کے لیے مواقع بہتر ہو رہے ہیں۔ جب وہ خود طالبہ تھیں تو خواتین پروفیسر بہت کم ہوتی تھیں لیکن آج وہ کہیں زیادہ متوازن اور مشمولہ پالیسیوں کا مشاہدہ کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب بھی مزید صلاحیتوں کی ضرورت ہے اور سٹیم میں تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں سوچنے والی لڑکیوں کے لیے ان کا پیغام سادہ اور واضح ہے کہ 'ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔'