غزہ: دیر البلح میں یو این ادارے ’انروا‘ کا طبی مرکز پھر فعال
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں مزید حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، دریں اثناء ’انروا‘ کے البریج طبی مرکز نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں اور ان کے لیے گزشتہ 28 ماہ سے جاری سنگین مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ادارےکا کہنا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں کو ہر جگہ تحفظ حاصل ہے خواہ وہ عسکری حد بندی کی لکیروں کے پار رہتے ہوں یا ان کے قریب مقیم ہوں۔
عسکری کارروائیوں کے دوران شہریوں اور شہری تنصیبات کا ہر حال میں تحفظ کیا جانا چاہیے اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل احتیاط برتی جانی چاہیے۔
'انروا' کے طبی مرکز کی بحالی
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) نے وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں واقع البریج طبی مرکز کو دوبارہ کھول دیا ہے جہاں کئی ماہ بعد بنیادی طبی خدمات بحال کر دی گئی ہیں۔
یہ مرکز بنیادی طبی نگہداشت، حفاظتی ٹیکہ جات، زچگی سے متعلق خدمات، دائمی امراض کے علاج، لیبارٹری ٹیسٹ اور منہ کی صحت سے متعلق سہولیات فراہم کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بعض اہم خدمات کی عدم دستیابی کے باعث ہزاروں مریض علاج اور بحالی کی سہولت سے محروم ہیں۔ مقامی سطح پر طبی خدمات کی توسیع بہت ضروری ہے جس میں تباہ شدہ طبی مراکز کی بحالی اور انتہائی نگہداشت کی سہولیات میں اضافہ خاص طور پر اہم ہیں۔ اس مقصد کے لیے مزید طبی سازوسامان درکار ہے جس میں ایکس رے مشینوں اور لیبارٹری کے آلات سمیت ایسی چیزیں بھی شامل ہیں جن کی اسرائیلی حکام سے منظوری حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی مرمت کا مسئلہ
اوچا کے مطابق، پناہ گاہوں کے شعبے میں کام کرنے والے شراکت داروں نے گزشتہ ہفتے 5,600 سے زیادہ خاندانوں کو ہنگامی رہائشی سہولیات فراہم کیں جن میں پلاسٹک کی تقریباً 5,000 چادریں اور 12,000 سے زیادہ گدے شامل تھے۔ گزشتہ ماہ 85,000 سے زیادہ خاندانوں کے لیے خیمے بھی فراہم کیے گئے تھے۔
اوچا نے کہا ہے کہ اب اس مسئلے کا پائیدار حل درکار ہے جس کے لیے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے لیے ضروری مشینری اور تعمیراتی مواد لانے کے اجازت نامے حاصل ہونا ضروری ہیں۔
اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت دار اپنی کارروائیوں کو وسعت دینے کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے لیے ان کے کام پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام امدادی اداروں کو کام کی بلا رکاوٹ اجازت دی جائے اور ضروری سامان اور آلات کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔