سوڈان خانہ جنگی: فاقے اور بیماریاں بچوں کی اموات میں اضافے کا سبب
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں مسلسل تشدد، قحط اور بیماری کے سبب بچوں میں اموات بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ طبی مراکز پر حملوں اور امداد تک رسائی میں مشکلات کے باعث متاثرہ بچوں کو مدد دینے کوششیں سخت رکاوٹوں کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ شمالی دارفور کے بعض علاقوں میں نصف سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ انتباہ غذائی عدم تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے نظام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق شمالی دارفور کے تین علاقوں میں غذائی قلت کی شرح تباہ کن حد تک پہنچ گئی ہے۔
یونیسف کے ترجمان ریکارڈو پیریز نے کہا ہے کہ شدید بھوک اور غذائی قلت سب سے پہلے بچوں کو نشانہ بناتی ہے جن میں سب سے کم عمر اور سب سے کمزور بچے دیگر کے مقابلے میں کہیں بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ سوڈان میں یہ بحران پھیلتا جا رہا ہے جہاں چھ ماہ سے پانچ سال عمر تک کے بچوں کو تحفط دینے کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
غذائی قلت اور بیماریاں
یونیسف نے واضح کیا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں بالخصوص جنگ زدہ جگہوں پر غذائی قلت تیزی سے قحط جیسی صورتحال میں تبدیل ہونے لگی ہے۔ بچوں کو بھوک کا سامنا ہی نہیں بلکہ وہ بخار، دست، سانس کی بیماریوں، ویکسینیشن کی کمی، غیر محفوظ پانی اور صحت کے تباہ حال نظام سمیت بہت سے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ شمالی دارفور کے علاقے ام بارو میں نصف سے زیادہ بچے دنیا کی نگاہوں کے سامنے ختم ہو رہے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
طبی نظام پر حملے
سوڈان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر شبل سہبانی نے کہا ہے کہ نقل مکانی پر مجبور ہونے والے بہت سے لوگوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے تاہم صحت کا نظام حملوں میں آلات و ادویات کے نقصان، طبی عملے کی کمی اور مالی وسائل کے فقدان کے باعث تباہ ہو گیا ہے۔
اپریل 2023 میں لڑائی کا آغاز ہونے کے بعد 'ڈبلیو ایچ او' نے طبی مراکز پر 205 حملوں کی تصدیق کی ہے جن میں 1,924 افراد ہلاک اور 529 زخمی ہوئے۔
ڈاکٹر سہبانی کا کہنا ہے کہ ملک کو متعدد وبائی امراض کا سامنا ہے جن میں ہیضہ، ملیریا، ڈینگی اور خسرہ بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ادارہ اور اس کے شراکت دار ان وباؤں سے نمٹنے میں مدد دے رہے ہیں تاہم انہیں براہ راست حملوں سمیت بہت سے خطرات کا سامنا ہے۔ مریضوں اور طبی عملے کو علاج حاصل کرنے یا فراہم کرنے کے دوران موت کا خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔