انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یورپی ممالک سے اقوام متحدہ اور کثیرالفریقی نظام کے تحفظ کی اپیل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر انالینا بیربوک یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں رسمی خطاب دے رہی ہیں۔
© European Union/Alexis Haulot
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک فرانس کے شہر سٹراس برگ میں یورپی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے۔

یورپی ممالک سے اقوام متحدہ اور کثیرالفریقی نظام کے تحفظ کی اپیل

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے یورپی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ قوانین پر مبنی عالمی نظام کا تحفظ کریں، جعلی خبروں اور غلط بیانیوں کے مقابلے میں سچائی کا دفاع کرنے میں مدد دیں اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کے لیے حمایت اور تعاون فراہم کریں۔

انہوں نے فرانس کے شہر سٹراس برگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی سطح پر مشکل حالات کے تناظر میں کثیرالفریقی نظام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2026 کے ابتدائی 40 ایام میں ہی دنیا وینزویلا، ایران اور گرین لینڈ کے بحرانوں کا سامنا کر چکی ہے جبکہ یوکرین، غزہ، سوڈان اور دیگر علاقوں میں تباہی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

Tweet URL

انہوں نے قانون سازوں سے کہا کہ بین الاقوامی نظام نہ صرف دباؤ میں ہے بلکہ اس پر براہ راست حملہ ہو رہا ہے۔ دنیا کو ایسی جنگوں کا سامنا ہے جو نہ تو دفاع کے کسی بہانے سے ہو رہی ہیں اور نہ ہی ان کا سبب بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنانا ہے۔ اس کے بجائے بیشتر جنگیں عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ جب دنیا کو تعاون اور اقوام متحدہ کی زیادہ ضرورت ہے اس وقت طاقتور ممالک اس سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں یا کھلے عام اس پر حملہ آور ہیں جن میں وہ ملک بھی شامل ہیں جن پر امن و سلامتی کے تحفظ کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کے منشور کا تحفظ 

اینالینا بیئربوک نے یاد دلایا کہ چار سال قبل، جب وہ جرمنی کی وزیر خارجہ تھیں تو انہوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے یورپ میں امن کے دفاع کے لیے اقوام متحدہ کے کردار پر زور دیا تھا جبکہ اس وقت روس یوکرین پر حملہ کر چکا تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ آج وہ جنرل اسمبلی کی صدر کی حیثیت سے یورپ آئی ہیں تاکہ براعظم سے یہ اپیل کر سکیں کہ وہ اقوام متحدہ کے لیے کھڑا ہو، کیونکہ دنیا کو اقوام متحدہ کی ضرورت ہے اور اس کے منشور میں درج اصولوں کو بھی دنیا کی ضرورت ہے۔

 دنیا کو ایک بین العلاقائی اتحاد تشکیل دینا ہوگا تاکہ منشور اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کا تحفظ اور دفاع کیا جا سکے جو سب کو انفرادی اور اجتماعی طور پر فائدہ پہنچاتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ سچ کے دفاع کی بات کرنا آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا آسان نہیں۔ جب بلیک میلنگ، دباؤ، دھمکیوں یا خوف زدہ کرنے والے ہتھکنڈوں کا سامنا ہو تو یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ 

یورپی یونین کے اتحاد کی مثال 

انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی ملک یہ کام اکیلا نہیں کر سکتا اور اس ضمن میں یورپی یونین کے اجتماعی اقدام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل یورپ نے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ فوجیوں کی تعیناتی دیکھی تو اس پر سکتہ طاری ہو گیا۔ کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یورپی یونین ایک ہی ہفتے میں متحد ہو جائے گی جبکہ اسے انتہائی سست، حد سے زیادہ بیوروکریٹک اور منقسم کہا جاتا ہے۔

تاہم، یورپ نے یہ قدم اکیلے نہیں اٹھایا تھا بلکہ اسے دنیا کے دیگر ممالک کا تعاون بھی حاصل تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا پکار رہی ہے۔ بات صرف گرین لینڈ کی نہیں، بلکہ لاطینی امریکہ اور افریقہ کی بھی ہے۔ یہ عالمگیر امن اور اقوام متحدہ کے منشور کا معاملہ ہے۔ اس ادارے کو یورپ کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ اس کا جواب واضح اور زوردار ہو گا کہ ہاں یہ براعظم اپنے امن، عالمی امن اور اقوام متحدہ کے لیے کھڑا ہو گا۔ 

اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت 

جنرل اسمبلی کی صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ کو یورپ کی ضرورت اصلاحات کے لیے بھی ہے تاکہ اسے بہتر، زیادہ موثر اور زیادہ فعال ادارہ بنایا جا سکے۔ اگرچہ 80 سال پرانا یہ ادارہ کامل نہیں، مگر انہوں نے واضح کیا کہ دنیا اس کے بغیر بہتر نہیں ہو سکتی۔ ناقص ہونا کمزوری نہیں بلکہ بہتری اور مضبوطی پیدا کرنے کا موقع ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ کے مخالف عناصر کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس ادارے کی ناکامیوں یا خامیوں کو ہتھیار بنا کر پورے نظام کو تہس نہس کر دیں یا محدود اور مخصوص گروہ عالمی امن کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لے۔

اینالینا بیئربوک نے کہا کہ اقوام متحدہ وجودی نوعیت کے مالی بحران سے بھی دوچار ہے کیونکہ بعض رکن ممالک اپنی واجب الادا رقوم یا تو تاخیر سے ادا کر رہے ہیں یا برسوں سے ادا ہی نہیں کر رہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے مالیاتی قوانین کے تحت کوئی بھی غیر خرچ شدہ رقم رکن ممالک کو واپس کرنا لازم ہے خواہ وہ رقم حقیقت میں موصول ہی نہ ہوئی ہو۔ اقوام متحدہ کو اس مالیاتی اصول میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو آئندہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ باعث حیرت ہے کہ 80 برس میں چار ارب ممکنہ امیدواروں کے باوجود اقوام متحدہ نے کبھی کسی خاتون کو اپنے اعلیٰ ترین منصب پر منتخب نہیں کیا۔