انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایتھوپیا: وولکر ترک کی ٹیگرے میں حکومت اور باغیوں سے جنگ بندی کی اپیل

media:entermedia_image:61958c18-9b28-4f90-8f33-dbfd74370ad2
© UNICEF/Christine Nesbitt
ٹیگرے میں متحارب فریقین کے درمیان لڑائی میں تباہ ہونے والی ایک ایمبولینس (فائل فوٹو)۔

ایتھوپیا: وولکر ترک کی ٹیگرے میں حکومت اور باغیوں سے جنگ بندی کی اپیل

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایتھوپیا کے غیر مستحکم علاقے ٹیگرے میں متحارب فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے جہاں کچھ عرصہ امن قائم رہنے کے بعد ملکی فوج اور علاقائی فورسز کے درمیان لڑائی دوبارہ چھڑ گئی ہے۔

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ ٹیگرے کی صورتحال نہایت غیر یقینی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ مزید بگڑ سکتی ہے جس سے خطے میں انسانی حقوق اور امداد کی فراہمی کے حوالے سے نازک حالات مزید خراب ہو جائیں گے اور طویل عرصہ مسلح تنازع کا سامنا کرنے والے شمالی علاقوں اور ان سے پرے سنگین بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

Tweet URL

2020 سے 2022 کے درمیانی عرصہ میں حکومت اور علیحدگی پسند ٹیگرے فورسز کے درمیان لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک اور 20 لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو گئے تھے جن کی نصف تعداد تاحال اپنے گھروں اور علاقوں میں واپس نہیں لوٹ سکی۔ 

شہریوں کے حقوق کی پامالی 

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے مطابق، 26 جنوری کو امہارا کی سرحد کے قریب ایتھوپیا کی فوج اور ٹیگرے سکیورٹی فورسز (ٹی ایس ایف) کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں جن میں طرفین سے توپ خانے اور دیگر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

 ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ شہری ایک مرتبہ پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی میں پھنس گئے ہیں جبکہ فریقین لوگوں کو اپنے مخالف سے مبینہ وابستگی کے الزام میں گرفتار کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

ہائی کمشنر نے زور دیا ہے کہ فریقین تصادم کے دہانے سے پیچھے ہٹیں اور اپنے اختلافات کو سیاسی ذرائع سے حل کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے تمام الزامات کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

تباہ کن نتائج کا خدشہ

'او ایچ سی ایچ آر' کی ترجمان روینہ شمداسانی نے جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید تصادم کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے جس کے عام شہریوں پر نہایت تباہ کن نتائج ہوں گے۔

انہوں نے ہائی کمشنر کی اس اپیل کو دہرایا کہ تمام فریق 2022 میں طے پانے والے پریٹوریا معاہدے سے دوبارہ وابستگی کا اظہار کریں جس کا مقصد اختلافات کا خاتمہ تھا۔ علاوہ ازیں، انہیں اعتماد سازی کے اقدامات کے طور پر اندرون ملک بے گھر افراد کی محفوظ واپسی کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

ہائی کمشنر نے متنبہ کیا ہے کہ ایتھوپیا اور ہمسایہ ملک اریٹریا کے درمیان حالیہ کشیدگی دونوں ممالک اور پوری شاخ افریقہ میں انسانی بحران کو مزید خراب کر سکتی ہے جبکہ ٹیگرے میں اریٹیریا کے فوجیوں کی موجودگی اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی اطلاعات ہیں۔

انہوں نے زور دیا ہے کہ اختلافات کو سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور تشدد کا راستہ اختیار نہ کیا جائے۔ ٹیگرے چند سال پہلے جیسی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔