کاروباری خواتین پائیدار ترقی اور اختراع کی قائد، یو این ادارہ
خواتین کی بھرپور شرکت کے بغیر پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں جن کی کاروباری سرگرمیاں پائیدار خوشحالی، عالمگیر اختراع اور معاشی شمولیت کا طاقتور محرک ہیں۔
یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صنعتی ترقی (یونیڈو) کے ڈائریکٹر جنرل گیرٹ مولر نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں 'ویمن انٹرپرینیورز چیلنج فاؤنڈیشن' کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے جس کا انعقاد 'عالمی کاروباری و سرمایہ کاری فورم' سے ایک روز قبل ہوا۔
گیرٹ مولر نے کہا کہ ہر جگہ خواتین کو مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ مہارت کی ملازمتوں تک رسائی میں اب بھی کڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ خواتین کے لیے مساوی مواقع کو یقینی بنانا ہو گا اور انہیں اپنی مکمل صلاحیتوں تک پہنچنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ کاروباری خواتین کو خصوصی رعایت نہیں بلکہ مساوات اور منصفانہ مواقع درکار ہیں۔ جہاں خواتین غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہی ہیں وہاں انہیں معاونت کی شدید ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کاروباری سرگرمیوں اور خواتین کی معاشی شمولیت میں بحرین کے قائدانہ کردار کو سراہا اور بتایا کہ یونیڈو شام، سوڈان اور فلسطین میں بحالی کے پروگراموں پر کام کر رہا ہے۔
کامیابی کی داستانیں
کانفرنس میں فاؤنڈیشن نے مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے تعلق رکھنے والی کامیاب کاروباری خواتین کو اعزازات سے نوازا۔ ان میں بحرین کی سونیا محمد جناحی بھی شامل تھیں جنہوں نے خواتین کے کاروبار کی معاونت میں یونیڈو کے کردار کو اجاگر کیا۔
ادارے کی معاونت سے سونیا نے اپنے چاکلیٹ برانڈ کو افریقہ تک وسعت دی اور آئیوری کوسٹ میں کوکو کا پراسیسنگ پلانٹ قائم کیا جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور افریقہ میں تیار کی جانے والی چاکلیٹ کو عالمی سطح پر پہچان ملی۔
انہوں نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیڈو نے ان کی کامیابی کے سفر میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کے لیے وسیع مواقع کے دروازے کھول دیے۔
اس موقع پر نائجیریا کی کاروباری خاتون اولو اکلیمے کو بھی اعزاز سے نوازا گیا جنہوں نے اپنے تحائف اور پرچون کے کاروبار کے بارے میں بتایا۔ ان کا ادارہ نائجیریا بھر میں خواتین کو روزگار فراہم کر رہا ہے جس سے خاندانوں کی آمدنی بڑھ رہی ہے اور اب وہ اسے عالمی سطح پر توسیع دینے کی تیاری کر رہی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق، اب تک دنیا بھر سے 575 نمایاں کاروباری خواتین کو اس اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔ ان خواتین کو ہر سال فاؤنڈیشن کی کانفرنسوں میں شریک اداروں کی جانب سے نامزدگی پر یہ اعزاز دیا جاتا ہے۔
خواتین کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری
'گلوبل ویمن انٹرپرینیورز چیلنج' کی صدر ایبوکن اوسیگا نے کاروبار، قیادت اور ملکی ترقی میں خواتین کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین دنیا کے پیداواری وسائل کا نصف ہیں اور جب انہیں بااختیار بنایا جائے تو وہ کاروباری اور سیاسی قیادت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
اوسیگا نے اپنی ذاتی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 36 برس کی عمر میں ایک صنعتی گروپ قائم کیا اور بعدازاں وہ ذیلی صحارا افریقہ کے قدیم ترین مالیاتی ادارے فرسٹ بینک آف نائجیریا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی چیئرپرسن بننے والی پہلی اور تاحال واحد خاتون ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی پیداواری اور تعمیری صلاحیتیں مکمل طور پر بروئے کار لائی جائیں تو وہ انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔ جو قوم اپنی آبادی کے نصف حصے کی پوشیدہ صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی دانائی رکھتی ہے،کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
کاروباری خواتین کا پلیٹ فارم
'گلوبل ویمن انٹرپرینیورز چیلنج' عالمی سطح پر نمایاں کاروباری خواتین کو ایک دوسرے سے جوڑنے، انہیں معاونت فراہم کرنے اور ترقی دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی چیمبرز آف کامرس اور خواتین کی کاروباری تنظیموں کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کے ذریعے اپنی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔
48 سے زیادہ شراکت دار اداروں اور دنیا بھر میں 575 سے زیادہ کامیاب کاروباری خواتین کے ساتھ یہ تنظیم خواتین کو اپنے کاروبار عالمی سطح پر پھیلانے اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
11 فروری کو بحرین میں چھٹا 'عالمی کاروباری و سرمایہ کاری فورم' شروع ہو رہا ہے۔ اس دو روزہ فورم میں دنیا بھر کے رہنما، سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات شرکت کریں گی جس کا مقصد پائیدار ترقی کی رفتار کو تیز کرنا، اختراع کو فروغ دینا اور دنیا بھر میں خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔