مسئلہ فلسطین: حالیہ اسرائیلی اقدامات دو ریاستی حل کے لیے خطرہ، یو این
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں ’اے‘ اور ‘بی‘ میں انتظامی نوعیت کے متعدد اقدامات کی منظوری دیے جانے پر خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچے گا۔
سیکرٹری جنرل نے اپنے ترجمان کے ذریعے جاری کردہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں قائم تمام اسرائیلی بستیاں اور ان سے منسلک بنیادی ڈھانچہ اور نظام کسی قانونی حیثیت کے حامل نہیں ہیں۔ یہ توسیع بین الاقوامی قانون بالخصوص اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی سمیت ایسے اقدامات نہ صرف غیرقانونی بلکہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بھی ہیں۔ عالمی عدالت انصاف بھی اپنے فیصلے میں ان کی غیرقانونی حیثیت کو واضح کر چکی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ان اقدامات کو واپس لے اور تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ پائیدار امن کے واحد راستے کو اختیار کریں جس کا مطلب سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا دو ریاستی حل ہے۔