انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ہانگ کانگ: 20 سال سزا پانے والے میڈیا ٹائیکون کی رہائی کا مطالبہ

جیمی لائی، 73 سالہ نیکسٹ میڈیا کے بانی، نیلے رنگ کا چہرہ ماسک پہنے ہوئے، ہانگ کانگ میں ایک عدالت میں پیش ہونے کے دوران صحافیوں اور فوٹوگرافروں کے گھیرے میں۔
© Wikimedia/Iris Tong
ہانگ کانگ کے معروف میڈیا ٹائیکون جمی لائی جنہیں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ہانگ کانگ: 20 سال سزا پانے والے میڈیا ٹائیکون کی رہائی کا مطالبہ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ہانگ کانگ کے معروف میڈیا ٹائیکون جمی لائی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے جنہیں چین کی عدالت نے قانون برائے قومی سلامتی کے تحت 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ 78 سالہ جمی لائی ایک ناشر ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے محفوظ حقوق کے استعمال پر سزا سنائی گئی ہے اور یہ فیصلہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

Tweet URL

جمی لائی جمہوریت نواز اخبار ’ایپل ڈیلی‘ کے بانی ہیں جسے اب بند کر دیا گیا ہے۔ انہیں چین کی حکومت نے ہانگ کانگ میں سلامتی سے متعلق قوانین کے تحت عائد الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔ گزشتہ سال 15 دسمبر کو ہائی کورٹ نے جمی لائی کو بغاوت آمیز مواد شائع کرنے کی سازش اور قومی سلامتی کے قانون (این ایس ایل) کے تحت غیر ملکی قوتوں سے ملی بھگت کی دو سازشوں کے الزامات میں قصوروار ٹھہرایا تھا۔ 

جمی لائی نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ انہیں عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔ ایپل ڈیلی کے چھ سابق ملازمین، ایک سماجی کارکن اور ایک وکیل کو بھی چھ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

قومی سلامتی کا مبہم قانون 

ہائی کمشنر کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے بنیادی آزادیوں کو مجرمانہ فعل قرار دیا گیا ہے جن میں اظہار رائے، صحافت اور تنظیم سازی کا حق شامل ہیں۔ عدالتی فیصلہ بڑی حد تک ایسے طرز عمل پر مبنی ہے جو قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ سے پہلے رائج تھا۔

فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کی مبہم اور حد سے زیادہ وسیع دفعات کس طرح اپنی تشریح اور نفاذ میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا باعث بنتی ہیں۔ اس فیصلے کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جمی لائی کی رہائی کا مطالبہ

ہائی کمشنر نے جمی لائی کی انسانی بنیاد پر فوری رہائی کی اپیل بھی کی ہے اور اس ضمن میں ان کی عمر، صحت اور چار سال سے زیادہ عرصہ سے جاری حراست کے اثرات کا حوالہ دیا۔

'او ایچ سی ایچ آر' نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ فیصلے میں اقوام متحدہ اور اس کے انسانی حقوق سے متعلق اداروں سے روابط کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ 

صحافتی آزادی پر قدغن 

2020 میں قومی سلامتی کے قانون اور 2024 میں قومی سلامتی کے تحفظ کے قانون کے نفاذ کے بعد ہانگ کانگ میں صحافتی آزادی کی صورتحال سخت خراب ہو چکی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے متعدد ادارے ریاست کی جانب سے بند کیے جا چکے ہیں، درجنوں صحافی گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ غیر ملکی صحافیوں کو ویزا کے حوالے سے سخت ضوابط کا سامنا ہے۔

وولکر ترک نے کہا ہے کہ یہ ہانگ کانگ میں جاری وسیع تر جابرانہ رجحان کا حصہ ہے جہاں ان قوانین کے تحت سیکڑوں افراد کو گرفتار کر کے ان پر مقدمات چلائے گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، 2020 سے 2026 کے درمیان قومی سلامتی سے متعلق جرائم کے تحت کم از کم 385 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور 175 کو سزا دی جا چکی ہے۔