سوڈان: انسانیت سوز واقعات کا تدارک عالمی برادری کی ذمہ داری، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں سوڈان کے شہر الفاشر میں پیش آنے والے واقعات ہولناک اور قابل تدارک انسانی المیہ تھے۔ انہوں نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں ایسے مظالم کی روک تھام کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا ہے کہ الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے قبضے کے دوران قتل عام کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے زیراہتمام سوڈان کی صورتحال پر مکالمے کے موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے ریاست شمالی کردفان اور مشرقی چاڈ میں 140 سے زیادہ متاثرین اور عینی شاہدین سے بات چیت کے ذریعے اکٹھی کی جانے والی شہادتیں پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام افراد نے الفاشر میں قتل عام اور ماورائے عدالت سزاؤں کی اطلاع دی اور عصمت دری و دیگر جنسی تشدد، بدسلوکی، ناجائز گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور تاوان کے لیے اغوا جیسے جرائم کا ذکر بھی کیا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ الفاشر سے باہر جانے والی سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر لگے تھے جبکہ ریپڈ سپورٹ فورسز اور ان سے وابستہ ملیشیاؤں نے جنسی تشدد کو منظم انداز میں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
ہائی کمشنر نے کہا کہ ان بھیانک جرائم کی ذمہ داری 'آر ایس ایف' اور اس کے اتحادیوں اور پشت پناہی کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے۔اگر عالمی برادری بین الاقوامی جرائم کا ارتکاب کرنے والی افواج اور مسلح گروہوں کو خاموشی سے دیکھتی رہی تو بدترین نتائج کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
انہوں نے الفاشر کے سقوط کے بعد کردفان میں ایسے حملوں کے دوبارہ ارتکاب کے خدشے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جہاں لڑائی مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں عام شہریوں کو ماورائے عدالت قتل، جنسی تشدد، ناجائز گرفتاریوں اور جبری بیدخلی جیسے سنگین خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے اظہار نفرت کے خلاف بھی خبردار کیا جو عموماً نسلی بنیادوں پر تشدد کو ہوا دیتا ہے اور کہا کہ وہ سوڈان کے دورے میں خود اس کے اثرات کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔
تشدد کی روک تھام
وولکر ترک نے اپنے دفتر کی جانب سے اعتماد سازی سے متعلق اقدامات کا ذکر بھی کیا جن کا مقصد ثالثی کی کوششوں کی حمایت اور فریقین کے درمیان اعتماد پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا، تمام رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ شہریوں کو تحفظ دینے اور تشدد میں کمی لانے کے لیے ان ٹھوس اقدامات کی حمایت کریں اور فریقین پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں۔
ان اقدامات میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
- شہریوں یا رہائشی علاقوں کو دھماکہ خیز ہتھیاروں سے نشانہ نہ بنانے کا عزم
- شہریوں کا نقصان کم سے کم رکھنے کے لیے عملی اقدامات
- انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانا
- ناجائز حراستوں کا خاتمہ
- قیدیوں کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے مطابق انسانی سلوک
- شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے گریز
انہوں نے رکن سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ دارفور میں اسلحے کی فراہمی پر عائد اسلحہ پابندی کو سوڈان بھر تک توسیع دی جائے۔ بریفنگ کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ سوڈان کے دورے میں ان پر ایک بات بالکل واضح ہو گئی کہ امن، انصاف اور آزادی کی جدوجہد کا جذبہ آج بھی زندہ ہے۔