انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لیبیا: دو بچوں سمیت 53 تارکین وطن کشتی الٹنے سے لاپتا یا ہلاک

ایس او ایس بحیرہ روم کی ریسکیو ٹیم بحیرہ روم میں مصیبت میں ایک لکڑی کی کشتی پر سوار تارکین وطن کی مدد کرتی ہے ، 25 جون ، 2020۔
© SOS Méditerranée/Flavio Gasperini
رواں سال جنوری میں بحیرہ روم کے وسطی حصے میں کم از کم 375 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں۔

لیبیا: دو بچوں سمیت 53 تارکین وطن کشتی الٹنے سے لاپتا یا ہلاک

مہاجرین اور پناہ گزین

بحیرہ روم میں لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی ڈوبنے کے تازہ ترین واقعے میں دو نومولود بچوں سمیت 53 مہاجرین ہلاک یا لاپتا ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ کشتی میں افریقہ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور پناہ کے خواہش مند لوگ سوار تھے۔ یہ کشتی جمعرات کی رات 11 بجے زاویہ سے روانہ ہوئی تھی اور چھ گھنٹے بعد اس میں پانی بھرنا شروع ہو گیا جس کے بعد وہ الٹ گئی۔

Tweet URL

لیبیا کے حکام نے اس حادثے میں نائجیریا سے تعلق رکھنے والی خواتین کو زندہ بچا لیا۔ ان میں سے ایک خاتون نے بتایا کہ اس کا شوہر سمندر میں ڈوب گیا ہے جبکہ دوسری خاتون کے دو بچے ہلاک ہو گئے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کشتی میں سوار مسافر کہاں جا رہے تھے البتہ لیبیا سے روانہ ہونے والی بیشتر کشتیاں اطالوی جزیرے لمپیڈوسا کا رخ کرتی ہیں جو زاویہ سے تقریباً 350 کلومیٹر (220 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ یہ لوگ ربڑ کی جن کھلی کشتیوں میں سفر کرتے ہیں وہ اس قدر طویل اور خطرناک سفر کے لیے بالکل موزوں نہیں ہوتیں۔

سرد موسم میں موت کا سفر 

دوران سفر لاپتہ ہونے والے مہاجرین سے متعلق 'آئی او ایم' کے ڈیٹا بیس کے مطابق، رواں سال جنوری میں ہی بحیرہ روم کے وسطی حصے میں کم از کم 375 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ حادثہ شدید سرد موسم میں پیش آنے والے کئی واقعات میں سے ایک ہے اور خدشہ ہے کہ ایسے بہت سے المناک واقعات سامنے ہی نہیں آ پاتے۔ 

'آئی او ایم' کے مطابق، سمگلنگ اور انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ اب بھی مایوس اور بے بس لوگوں کو ناکارہ اور غیر محفوظ کشتیوں میں سمندر کے حوالے کر کے منافع کما رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ادارے نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی تعاون بڑھانے اور مہاجرت کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

رواں سال اب تک 781 مہاجرین کو ایسے سفر سے روک کر واپس لیبیا بھیجا جا چکا ہے جن میں سے 244 کو گزشتہ ہفتے واپس لایا گیا۔ گزشتہ سال 27,116 افراد کو واپس بھیجا گیا تھا جن میں 1,314 کے ہلاک یا لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اجتماعی قبریں اور حراستی مراکز

'آئی او ایم' نے زور دیا ہے کہ وہ لیبیا کو مہاجرین کے لیے محفوظ بندرگاہ نہیں سمجھتا جہاں حالیہ عرصہ میں ان کی اجتماعی قبریں اور خفیہ حراستی مراکز دریافت ہوئے ہیں۔

ادارے کے مطابق، اجدابیہ میں ایک غیر قانونی حراستی مرکز پر حکام کے چھاپے کے بعد ہونے والی تحقیقات سے سامنے آیا کہ وہاں مہاجرین کو قید رکھا گیا اور ان پر تشدد کیا جاتا رہا تاکہ ان کے خاندانوں سے تاوان وصول کیا جا سکے۔

کفرہ میں حکام نے زیرزمین تین میٹر گہرا حراستی مرکز دریافت کیا جہاں سے 221 مہاجرین اور پناہ گزینوں کو رہا کرایا گیا۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، ان لوگوں کو طویل عرصہ تک نہایت غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا تھا۔

مہاجرین کی واپسی کا اقدام 

'آئی او ایم' غیرمحفوظ مہاجرین کو رضاکارانہ طور پر ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے پروازوں کا انتظام کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے طرابلس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو ایسی ہی ایک پرواز کے ذریعے واپس بھیجا گیا۔ جنوری کے اواخر میں ادارے نے نائجیریا سے تعلق رکھے والے 177 مہاجرین کو بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وطن واپس پہنچانے میں مدد دی۔

ادارہ انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خاتمے اور متاثرین کی بحالی کے لیے مختلف ممالک کی حکومتوں کے ساتھ سرحد پار تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی کام کر رہا ہے۔