ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی خوش آئند، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بات چیت علاقائی کشیدگی کم کرنے اور کسی بڑے بحران کو روکنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مذاکرات کے میزبان عمان کو سراہتے ہوئے خطے کے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جنہوں نے ان مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے کوششیں کیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل کشیدگی میں کمی لانے اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق تنازعات کے پرامن حل پر زور دیتے آئے ہیں۔ تمام تنازعات کو پرامن مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے۔
یہ پیش رفت ایران کے جوہری پروگرام پر کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اور امریکہ کی جانب سے عسکری کارروائی کی دھمکیوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفود نے عمان میں بالواسطہ مذاکرات کیے ہیں۔
یہ گزشتہ جون کے بعد دونوں فریقین کے درمیان پہلی ملاقات ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے تھے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب امریکہ نے ایران کے ساحل کے قریب جوہری توانائی سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہاز سمیت اپنی عسکری موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔
مظاہرین کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے ایران میں حالیہ احتجاج کے دوران مبینہ ہلاکتوں اور حقوق کی دیگر پامالیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مظاہرے دسمبر کے آخر میں اس وقت شروع ہوئے جب دارالحکومت تہران میں دکانداروں نے قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بدتر ہوتے معاشی حالات کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ بعد ازاں یہ احتجاج حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو کر پورے ملک میں پھیل گیا جس پر سخت اور خونریز کریک ڈاؤن کیا گیا۔
ایرانی حکام نے مظاہروں کے دوران 2,900 سے زیادہ لوگوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم 'او ایچ سی ایچ آر' کے ترجمان ثمین الخیطان نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ بند رہنے سمیت کئی عوامل کے باعث مکمل تصدیقی عمل انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا ہے کہ تمام مبینہ ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔