انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایڈز کے خلاف 6 ارب ڈالر امریکی معاونت کی منظوری خوش آئند، یو این

یو این ایڈز یہ یقینی بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام لوگوں کو طبی خدمات دستیاب رہیں۔
UN Women/Nguyen Minh Duc
یو این ایڈز یہ یقینی بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام لوگوں کو طبی خدمات دستیاب رہیں۔

ایڈز کے خلاف 6 ارب ڈالر امریکی معاونت کی منظوری خوش آئند، یو این

صحت

ایچ آئی وی/ایڈز کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایڈز) نے امریکہ کی جانب سے دنیا میں اس مرض سے نمٹنے کے لیے 6 ارب ڈالر فراہم کرنے کی قانون سازی کا خیرمقدم کیا ہے۔

یو این ایڈز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی بیانیما نے کہا ہے کہ امریکہ کی یہ سرمایہ کاری شراکت دار ممالک میں لاکھوں افراد کی زندگی کو تحفظ دے گی اور یقینی بنائے گی کہ ایچ آئی وی کے خلاف عالمی ردعمل موثر، معلومات پر مبنی اور نتیجہ خیز رہے۔

انہوں نے اس قانون سازی پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی کانگریس کی ایچ آئی وی اور عالمی صحت کے لیے مسلسل وابستگی پر ان کا شکریہ ادار کیا ہے۔

یو این ایڈز کے مطابق، منگل کو منظور ہونے والا 5.88 ارب ڈالر کا یہ امدادی پیکیج ایچ آئی وی کے خلاف عالمی اقدامات میں امریکہ کی مسلسل وابستگی اور قیادت کو مزید مضبوط کرے گا۔ 

امدادی وسائل کی تقسیم 

دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے امریکہ کی امداد ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف عالمی جدوجہد کا سب سے بڑا محرک رہی ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں جانیں بچائی گئی ہیں اور ممالک کو ایڈز کی وباؤں کے خاتمے میں مدد ملی ہے۔

  • اس پیکیج کے تحت 4.6 ارب ڈالر 'پہلے امریکہ عالمی طبی حکمت عملی' کے تحت ایچ آئی وی کے خلاف دوطرفہ معاونت کے لیے مختص ہوں گے۔ 
  • 1.25 ارب ڈالر ایڈز، تپ دق اور ملیریا کے خلاف عالمی فنڈ میں دیے جائیں گے۔
  • 45 ملین ڈالر یو این ایڈز کو فراہم کیے جانا ہیں۔

امریکہ کی اس حکمت عملی میں یو این ایڈز کے 95-95-95 اہداف کے حصول پر زور دیا گیا ہے۔ یہ اہداف 2030 تک ایڈز کو صحت عامہ کے ایک سنگین خطرے کے طور پر ختم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

یو این ایڈز کا مرکزی کردار

انسداد ایچ آئی وی/ایڈز کے لیے اقوام متحدہ کا مشترکہ پروگرام اس مقصد کے لیے ادارے کی کوششوں کو ہم آہنگ اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسف) عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) شامل ہیں۔

1996 میں یو این ایڈز کے قیام کے بعد امریکی حکومت اس کی ایک اہم شراکت دار رہی ہے اور حال ہی میں اس نے 2028 تک یو این ایڈز کے پروگرام کوآرڈینیٹنگ بورڈ میں اپنی رکنیت کی تجدید بھی کی ہے۔

یو این ایڈز کا کہنا ہے کہ ادارہ ان مالی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ ایچ آئی وی سے بری طرح متاثرہ ممالک اور برادریوں کو معلومات اور مضبوط تکنیکی اور تزویراتی معاونت فراہم کی جا سکے اور امریکی حکمت عملی کے نفاذ میں امریکہ کی حکومت، عالمی فنڈ، شراکت دار حکومتوں اور لوگوں کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت کام کیا جا سکے۔