انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: قحط جیسی صورتحال میں 3 کروڑ 37 لاکھ افراد امداد کے منتظر

سوڈان کے شہر طویلا میں تشدد کے بعد سرخ قمیض پہنے ایک نوجوان لڑکی نے خشک زمین میں سوراخ کھود کر اپنے خاندان کے لیے پناہ گاہ بنائی۔
© UNICEF/Mohammed Jamal گھر بار چھوڑنے پر مجبور ایک خاندان کی لڑکی عارضی پناہ گاہ کے لیے خیمہ لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔

سوڈان: قحط جیسی صورتحال میں 3 کروڑ 37 لاکھ افراد امداد کے منتظر

انسانی امداد

جنگ زدہ سوڈان میں خوراک اور غذائی قلت کا بحران تباہ کن حد تک بگڑنے کا خطرہ ہے اور رواں سال قحط سے بچنے کے لیے ملک کی دو تہائی آبادی یا 3 کروڑ 37 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہوں گے۔

غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) نے انتباہ جاری کیا ہے کہ 2026 میں سوڈان میں 3 کروڑ 37 لاکھ افراد کو مدد کی ضرورت ہو گی جہاں اپریل 2023 سے جاری جنگ اور انسانی امداد کی رسائی میں حائل رکاوٹوں کے باعث بہت سے علاقوں میں غذائی قلت شدید صورت اختیار کر گئی ہے۔ 

اقوام متحدہ کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ملکی فوج اور اس کی مخالف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین اپریل 2023 سے جاری لڑائی کے باعث ملک بھر میں 93 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 43 لاکھ سے زیادہ سرحد پار کر کے دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں، ملک میں 2 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

بڑھتا ہوا قحط: ریاست شمالی دارفور کے شہر الفاشر اور جنوبی کردفان کے علاقے قادوقلی میں قحط پھیلنے کے بعد اول الذکر ریاست کے علاقے ام برو اور کارنوی میں بھی غذائی قلت قحط میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ام برو میں غذائی قلت کی شرح 52.9 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو قحط کی مقررہ حد سے تقریباً دوگنا زیادہ ہے۔

نقل مکانی اور غذائی بحران: لڑائی کے باعث 96 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ بازاروں اور امداد کی فراہمی کے راستوں پر حملوں کے نتیجے میں 2 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ لوگ شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔

غذائی قلت میں اضافہ: 2026 میں شدید غذائی قلت کا شکار ہونے والوں کی تعداد 42 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ دارفور اور کردفان کے مزید 20 علاقے قحط کے فوری خطرے سے دوچار ہیں۔

شہری خدمات کا خاتمہ: ایک تہائی سے زیادہ طبی مراکز غیرفعال ہو گئے ہیں جبکہ امداد کی فراہمی میں سنگین رکاوٹیں حائل ہیں اور امدادی وسائل کی شدید کمی ہے۔

قحط کی صورتحال 

'آئی پی سی' کے سابقہ تجزیے کے مطابق، الفاشر اور کادوقلی میں جنوری 2025 تک قحط برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں قحط کی صورتحال ختم ہو چکی ہے۔

ان علاقوں میں بدلتے حالات اور تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ قحط کی کیفیت اب بھی برقرار ہے۔

'آئی پی سی' کی سفارشات

  • لڑائی کا خاتمہ، شہریوں کی حفاظت، اور خوراک، پانی اور صفائی و نکاسی آب کے نظام کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
  • انسانی امداد کے لیے محفوظ اور مسلسل رسائی فراہم کی جائے۔
  • زندگی کو تحفظ دینے کے لیے فوری اور بلا رکاوٹ امداد فراہم کی جائے۔
  • انسانی امداد کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل مختص کیے جائیں تاکہ تباہ کن نتائج اور مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
  • آبادی کی صورتحال کی بروقت نگرانی اور جائزے کے لیے معلوماتی نظام کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔

آئی پی سی انتباہ کیا ہے؟

'آئی پی سی' کے طریقہ کار کے مطابق، غذائی قلت کے حوالے سے انتباہ قحط کا باضابطہ اعلان نہیں ہوتا۔ یہ تازہ ترین شواہد کی بنیاد پر خوراک اور غذائی قلت کے بحران کی سنگینی کی طرف فوری توجہ دلانے اور ہنگامی اقدامات کی اپیل کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔

سوڈان سے متعلق یہ انتباہ 27 جنوری تک دستیاب معلومات پر مبنی ہے اور نومبر 2025 میں شائع ہونے والے 'آئی پی سی' تجزیے کے بعد بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کو اجاگر کرتا ہے۔ اس تجزیے میں الفاشر اور قادوقلی میں قحط کی نشاندہی کی گئی تھی جبکہ دارفور کے پورے خطے اور کردفان کے 20 علاقوں میں قحط کے خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔

اس کے بعد شمالی دارفور کے دو مزید علاقوں میں شدید غذائی قلت قحط کی حدود تک پہنچ گئی ہے جبکہ شمالی اور جنوبی کردفان میں تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کے باعث محصور یا الگ تھلگ آبادیوں اور شہروں تک امداد پہنچانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔