انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: جانیے یو این ادارے کی مدد سے بدلتے تعلیمی ماحول بارے

بلوچستان، پاکستان میں ایک کلاس روم میں ایک سفید حجاب اور نیلے رنگ کی وردی میں ایک نوجوان لڑکی نے یونیسف اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کی مدد سے ایک بورڈ پر 'اچھی عادتیں' لکھیں۔
© UNICEF/Husnain
بلوچستان کے علاقے حب کے گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول میں زیر تعلیم 13 سالہ سونیا۔

پاکستان: جانیے یو این ادارے کی مدد سے بدلتے تعلیمی ماحول بارے

ثقافت اور تعلیم

پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ایک سکول کا صحن زندگی سے بھرپور منظر پیش کر رہا ہے۔ کھلے آسمان تلے بہت سے بچے پڑھتے لکھتے اور کھیلتےکودتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فضا میں بیک وقت جوش و خروش اور امید کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

یہ ضلع حب کے گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول کا منظر ہے جہاں زیرتعلیم 13 سالہ سونیا کی زندگی میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ 

سونیا کچھ عرصہ پہلے تک کمرہ جماعت میں خاموش بیٹھی رہتی تھیں۔ وہ بہت کم بولتیں، آنکھ ملانے سے گریز کرتیں اور کبھی کسی سوال کا جواب دینے کے لیے ہاتھ بلند نہیں کرتی تھیں۔ انہیں اونچی آواز میں پڑھنے سے گھبراہٹ ہونے لگتی تھی اور تعلیمی سرگرمیاں بوجھ محسوس ہوتی تھیں۔ اگر انہیں کسی سوال کا جواب معلوم ہوتا تو تب بھی وہ خاموش رہتیں اور خود کو دوسروں کی نظروں سے اوجھل رکھنا پسند کرتی تھی۔

گزشتہ سال ان کی یہ صورتحال اس وقت تبدیل ہونا شروع ہوئی جب سکول میں اساتذہ کے بنیادی تعلیمی تربیتی پروگرام (ایف این ایل) کے تحت نئی تدریسی سرگرمیاں متعارف کرائی گئیں۔ یہ تربیت حکومت بلوچستان کی جانب سے اساتذہ کے لیے جاری پیشہ وارانہ تربیتی پروگرام کا حصہ ہے جسے 'گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن' (جی پی ای) کی معاونت حاصل ہے جبکہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسف) صوبائی محکمہ ثانوی تعلیم کے ذریعے اس میں تعاون کر رہا ہے۔

اس پروگرام کا مقصد پڑھائی کے ساتھ بچوں کا اعتماد بڑھانا اور کمرہ جماعت کی سرگرمیوں میں کھل کر حصہ لینے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

پاکستان کے بلوچستان میں جی پی ای اور یونیسیف کی حمایت میں پیشہ ورانہ ترقی کے دن کے موقع پر سبز حجاب پہنے ایک خاتون نے ایک کلاس روم کے ماحول میں خواتین کے ایک گروپ سے بات کی۔
© UNICEF/Husnain
اساتذہ کے ایک تربیتی سیشن کے دوران لی گئی تصویر۔

غیر روایتی طریقہ تدریس 

سونیا کی استاد نرگس نے 'جی پی ای' سے تربیت پانے کے بعد ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچان لیا۔ 'ایف این ایل' کے ذریعے سیکھے گئے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے انہوں سونیا کو بتدریج کمرہ جماعت کی سرگرمیوں میں شامل کرنا شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے طلبہ کے مختلف گروہ بنائے تاکہ وہ ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔ چھڑیوں، نظموں، کارڈ اور غباروں جیسے سادہ اور کم خرچ وسائل نے اسباق کو دلچسپ اور کھیل جیسی اجتماعی سرگرمی میں بدل دیا جنہیں یہ بچے پسند کرنے اور آسانی سے یاد بھی رکھنے لگے۔

ابتدا میں سونیا ہچکچائیں مگر ہر سرگرمی کے ساتھ ان کا اعتماد بڑھتا گیا۔ اب وہ استاد کے سوال پوچھنے پر جواب دینے کے لیے عموماً سب سے پہلے ہاتھ بلند کرتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ شوق سے بلند آواز میں پڑھتی ہیں اور جب کوئی مشق کامیابی سے حل کریں تو ہم جماعت ان کے لیے زور دار تالیاں بجاتے ہیں۔ اس طرح، جو بچی جو کبھی دوسروں کی نظروں میں نہیں آنا چاہتی تھی وہ آج دوسروں کے لیے مثال بن گئی ہے اور ساتھی طلبہ کوبھی آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔

والدین کا بڑھتا اعتماد 

سونیا کی کہانی بلوچستان بھر کے تعلیمی شعبے میں جاری وسیع تر تبدیلی کی صرف ایک مثال ہے۔

اساتذہ کے لیے بنیادی خواندگی اور حساب پر مبنی یہ تربیتی پروگرام اس وقت بلوچستان کے 21 اضلاع میں جاری ہے جس سے تقریباً 1,500 پرائمری سکولوں میں 4,400 اساتذہ مستفید ہو رہے ہیں۔

نرگس نے طلبہ کے والدین کے اعتماد میں بھی ایک بڑی تبدیلی دیکھی ہے۔ وہ لوگ جو کبھی اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں بھیجتے تھے اب سرکاری سکولوں میں داخل کروا رہے ہیں کیونکہ انہوں نے تعلیم کے معیار میں بہتری دیکھی ہے۔ بہت سے دوسرے خاندانوں نے بھی یہی کیا ہے جس سے سرکاری اداروں میں دی جانے والی تعلیم پر بڑھتا ہوا اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔

بلوچستان، پاکستان میں ایک کلاس روم میں ایک نوجوان لڑکی جو یونیسف کا بیگ تھام کر مسکرا رہی ہے۔ وہ دوسرے طالب علموں کے ساتھ گھیر لی گئی ہے، جس کی دیوار پر یونیسف اور جی پی ای کے لوگو نظر آتے ہیں۔
© UNICEF/Husnain
نو سالہ حسنہ حصول تعلیم کے لیے یکسو ہے۔

کمرہ جماعت میں مثبت تبدیلی 

رخسانہ علی تدریسی میدان میں تقریباً 13 سالہ تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ طریقہ تدریس بلوچستان بھر میں کمرہ ہائے جماعت کے ماحول کو تبدیل کر رہا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کی تربیت 2024 میں شروع ہوئی۔ یہ ان کے لیے بالکل نیا تجربہ تھا جس میں انہوں نے سیکھا کہ بچوں کو کئی طرح کی سرگرمیوں کے ذریعے کیسے سکھایا جا سکتا ہے تا کہ اسباق زیادہ موثر اور دلچسپ بن جائیں۔ اس سے اساتذہ کو طلبہ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے میں مدد ملی اور ان کا اپنا اعتماد بھی بڑھ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ کمرہ جماعت میں سبق پڑھا کر چلی جاتی تھیں۔ اب ان کی توجہ یہ سمجھنے پر مرکوز رہتی ہے کہ طلبہ کیسے سوچتے ہیں تاکہ ان میں تنقیدی سوچ، تخلیقیت اور مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اساتذہ کردار سازی، مشترکہ مشقوں، منصوبوں پر مبنی پڑھائی اور جلد سیکھنے والے طلبہ کو سست رو بچوں کے ساتھ لے کر چلنے جیسی سادہ حکمت عملی استعمال کرتے ہیں تاکہ سبھی اکٹھے آگے بڑھ سکیں۔

رخسانہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ جدید وسائل نے اساتذہ کو نئے تدریسی طریقے اپنانے میں کس طرح مدد دی ہے اور انہوں نے تدریسی سرگرمیاں تیار کرنے، مشکل سبق سمجھانے اور طلبہ کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور آن لائن ویڈیوز کا استعمال بھی سیکھا ہے۔

پیشہ وارانہ تربیتی کورس

نرگس اور رخسانہ اب ماہانہ پیشہ ورانہ تربیتی سیشن (پی ڈی) کے ذریعے اپنے ساتھی اساتذہ کی تربیت اور رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ سیشن اساتذہ کو مل جل کر نئے طریقے سیکھنے، اپنے تجربات بیان کرنے اور کلاس روم کے لیے عملی مہارتوں میں بہتری لانے کا موقع دیتے ہیں۔ اس سے خاص طور پر وہ اساتذہ مفید ہوتے ہیں جو دور دراز علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔ 

'پی ڈی' کے تحت اساتذہ کو کمرہ جماعت سنبھالنے اور مختلف جماعتوں کے طلبہ کو ایک ساتھ پڑھانے جیسے تدریسی طریقوں سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ تعلیمی نگران کمرہ ہائے جماعت کے مشاہدے، آرا اور رپورٹس کے ذریعے اس عمل میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ان مشاہدات کے دوران سامنے آنے والے اہم مسائل پر بحث کی جاتی ہے اور ان کا حل ڈھونڈا جاتا ہے۔

رخسانہ بتاتی ہیں کہ اس طریقہ کار سے انہیں بہت سی مدد ملتی ہے۔ اساتذہ سادہ مگر موثر طریقے سیکھتے ہیں جن میں تختہ سیاہ کے سامنے 45 ڈگری کے زاویے پر کھڑا ہونا، کمرہ جماعت میں شور شرابے کو سنبھالنا اور طلبہ کو صحیح طریقے سے بٹھانا بھی شامل ہیں۔ ایسی چھوٹی تبدیلیاں طلبہ کی دلچسپی اور سیکھنے کے عمل میں خاصی بہتری لاتی ہیں۔

ایک استاد اور ایک نوجوان طالبہ بلوچستان، پاکستان میں ایک رنگارنگ اسکول کوریڈور میں اکٹھے کھڑے ہیں، جو یونیسیف اور جی پی ای کی حمایت سے تعلیمی تبدیلی کی علامت ہے۔
© UNICEF/Husnain
سونیا اپنی استاد نرگس کے ساتھ اپنے سکول کے برآمدے میں کھڑی ہے۔

بنیادی خواندگی میں اضافہ

رخسانہ کا کہنا ہے کہ دوسرے اساتذہ اور ان کے طلبہ کی پیش رفت دیکھ کر انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے اور تربیت یافتہ استاد انہیں بھی سبق پڑھانے کی منصوبہ بندی، مشترکہ سرگرمیوں، کمرہ جماعت سنبھالنے اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے عام ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقے بتاتے ہیں۔

نرگس کہتی ہیں، جب بھی کوئی استاد اپنی جماعت میں کوئی سرگرمی آزماتا ہے تو دیکھنے میں آیا ہے کہ مزید بچے بھی اس میں حصہ لیتے ہیں، ان کا اعتماد بڑھتا ہے اور سیکھنے کا عمل بہتر ہونے لگتا ہے جبکہ یہ اثر بتدریج تمام کمرہ ہائے جماعت میں پھیلتا چلا جاتا ہے۔ 

ایسے پیشہ وارانہ تربیتی پروگرام کی بدولت بلوچستان کے سکولوں میں بنیادی خواندگی اور ریاضی کی مہارت بڑھ ہی ہے۔ بہتر تربیت یافتہ اساتذہ اور سرگرمیوں پر مبنی تعلیم کی بدولت سونیا جیسے بچے خود اعتمادی حاصل کر رہے ہیں اور مستقبل کے لیے پہلے سے زیادہ پرامید ہیں۔

یہ فیچر پہلے انگلش میں یہاں شائع ہوا تھا جس کا اردو ترجمہ عبداللہ زاہد نے کیا ہے۔