پاکستان: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزاؤں پر انسانی حقوق ماہرین کو تشویش
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان میں حقوق کے کارکنوں اور وکلا ایمان مزاری حاضر اور ہادی علی چٹھہ کو فوجداری الزامات کے تحت طویل سزائیں دیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ دونوں شخصیات کو آزادی اظہار سے متعلق اپنے حقوق سے کام لینے پر یہ سزائیں دی گئں۔ وکلا بھی دیگر افراد کی طرح اظہار رائے کی آزادی کا حق رکھتے ہیں۔ اس حق کے استعمال کو مجرمانہ فعل، خصوصاً دہشت گردی کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قانونی فریم ورک میں دہشت گردی سے متعلق جرائم کی وسیع اور مبہم تعریف کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا طرزعمل ملک بھر میں وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے کام کو کمزور کرنے اور مجرمانہ رنگ دینے کا سبب بن سکتا ہے اور اس سے ملک میں سول سوسائٹی خوف اور دباؤ میں آتی ہے۔
قانون کا ناجائز استعمال
گزشتہ سال 22 اگست کو ایمان مزاری حاضر کے خلاف سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرنے اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف ان پوسٹ کو شیئر اور ری پوسٹ کرنے پر فوجداری کارروائی شروع کی گئی تھی۔ 24 جنوری 2026 کو انہیں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016 کی دفعات 9 (جرم کی تمجید)، 10 (سائبر دہشت گردی) اور 26-اے (جھوٹی اطلاعات پھیلانے) کے تحت مجرم قرار دیا گیا۔
دونوں کو دی جانے والی سزاؤں کی مجموعی مدت 17 سال بنتی ہے جن میں سب سے طویل 10 سال کی سزا سائبر دہشت گردی کے جرم میں دی گئی۔ علاوہ ازیں، دونوں شخصیات پر تین کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
ماہرین نے کہا ہے کہ دونوں وکلا کے خلاف یہ پہلے مقدمات نہیں ہیں۔ 2022 سے اب تک ان کے خلاف 10 فوجداری شکایات درج کی جا چکی ہیں جن میں سے بعض تاحال زیرالتوا ہیں۔ تاہم اس سے قبل انہیں کبھی کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی۔
ماہرین نے کہا ہے کہ مقدمات کے اس تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانونی نظام کو ناجائز طور پر ہراسانی اور دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی کے متاثرین کے لیے آواز اٹھانے پر سزا دی جا سکے۔
مقدمے اور سزا پر سوالیہ نشانہ
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وکلا کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر فوجداری کارروائی کا نشانہ نہ بنایا جائے اور نہ ہی وکلا کو ان کے مؤکلین کے ساتھ منسلک کر کے دیکھا جائے۔
دونوں وکلا کے خلاف عدالتی کارروائی غیر معمولی تیزی سے آگے بڑھی۔ اطلاعات کے مطابق، انہیں اپنے دفاع کی تیاری کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا جبکہ اپنی پسند کے وکیل تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا رہا اور استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ان کی غیر موجودگی میں قلمبند کیے گئے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی معیارات فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے طریقہ کار سے متعلق متعدد ضمانتیں فراہم کرتے ہیں، مگر اس معاملے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان ضمانتوں کو نظرانداز کیا گیا۔ ایسی خلاف ورزی نے مقدمے اور سزا کی منصفانہ حیثیت سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین ان خدشات کے حوالے سے پاکستان کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔