یوکرین: روس شہریوں اور شہری سہولیات پر حملے بند کرے، یو این کا مطالبہ
یوکرین کے متعدد شہروں میں گزشتہ رات روس کے حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور سخت سردی میں ہزاروں لوگ بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملک میں اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار میتھیاس شمالے نے نیپرو، خارکیئو اور دارالحکومت کیئو پر ہونے والے ان حملوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث بہت سے علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعداد بجلی سے محروم ہے۔
روس کی جانب سے اہم شہری ڈھانچے پر منظم حملے لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں اور ان سے خاص طور پر معمر افراد اور بچوں کے لیے جان لیوا حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہری تنصیبات پر حملے ممنوع ہیں۔
جنریٹروں کی فراہمی
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے شدید سرد موسم میں بنیادی خدمات کو جاری رکھنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ نومبر سے اب تک ادارے نے ملک بھر میں درمیانے اور بڑے درجے کے 106 جنریٹر مہیا کیے ہیں تاکہ پانی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو سہارا دیا جا سکے۔ آئندہ ہفتوں میں مزید 149 جنریٹر فراہم کیے جائیں گے تاکہ کام کی استعداد بڑھے اور متبادل بجلی کے انتظامات بہتر ہو سکیں۔
ملک میں یونیسف کے نمائندے منیر محمدزادہ نے کہا ہے کہ پورے ملک میں بچوں اور خاندانوں کے لیے ضروری خدمات شدید دباؤ کا شکار ہیں اور والدین اپنے بچوں کو گرم رکھنے، کھانا تیار کرنے اور صاف پانی تک رسائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ادارے کی جانب سے فراہم کیے جانے والے جنریٹر تکنیکی عملے کو بجلی اور حرارت کا نظام چالو رکھنے میں مدد دیں گے تاکہ لوگوں کو حرارت ملتی رہے، ہسپتال کھلے رہیں اور پانی کی فراہمی برقرار رہے۔
کان کنوں کی ہلاکت
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے اطلاع کاروں نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو مشرقی یوکرین میں محاذ جنگ کے قریب نیپروپیٹرووسک میں روسی ڈرون حملے میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 12 مزدور ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے۔ یہ لوگ کان پر اپنی شفٹ مکمل کرنے کے بعد بس کے ذریعے گھروں کو واپس جا رہے تھے کہ انہیں ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔
یوکرین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے نگران مشن کی سربراہ ڈینیئل بیل نے کہا ہے کہ جب لڑائی شہری علاقوں تک پھیل جائے تو بے گناہ لوگوں کو ایسے ہی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر حملوں کو روکنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔