پاکستان: بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات قابل مذمت، سلامتی کونسل
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اپنی تمام صورتوں اور مظاہر میں عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرہ ہے۔
کونسل نے ان حملوں کے متاثرین، پاکستان کی حکومت اور عوام سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی خواہش ظاہر کی ہے۔
31 جنوری کو پیش آنے والے ان واقعات میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت 48 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جن میں پانچ خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں جبکہ علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
سلامتی کونسل کے صدر جیمز کیریوکی (برطانیہ) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ارکان نے کہا ہے ان قابل نفرت دہشت گرد کارروائیوں کے منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ضمن میں بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق حکومت پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
ارکان نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے تمام اقدامات مجرمانہ اور ناقابل جواز ہیں چاہے ان کے محرکات کچھ بھی ہوں اور وہ کسی بھی وقت، کہیں بھی اور کسی کے بھی ہاتھوں انجام پائیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تمام ممالک اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق دہشت گردی سے پیدا ہونے والے امن و سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
بچوں کی ہلاکت پر یونیسف کا اظہار افسوس
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حملوں کے دوران بچوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات پر تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا ہے کہ ادارے کو گزشتہ ہفتے کے آخر میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کے دوران بچوں کے نقصان کی اطلاعات پر شدید تشویش ہے۔ تشدد میں اضافے سے مقامی آبادی میں خوف پھیل رہا ہے جس کا سب سے بھاری بوجھ بچوں اور ان کے خاندانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے متاثرہ خاندانوں اور تشدد کے واقعات سے متاثرہ لوگوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح کے حالات میں بچوں کو نہ تو حملوں کا نشانہ بنانا چاہیے اور نہ ہی ایسے واقعات کو کسی لڑائی کا ضمنی نقصان سمجھا جا سکتا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق بچوں کی جان کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔