بحرانوں کا شکار علاقوں میں طبی خدمات کے لیے ایک ارب ڈالر کی ہنگامی اپیل
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رواں سال دنیا کے 36 مقامات پر شدید بحرانی حالات میں بنیادی صحت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی اپیل جاری کی ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' میں ہنگامی طبی حالات سے متعلق پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر چکوی ایکاویز نے بتایا ہے کہ ان وسائل سے غزہ، سوڈان، یوکرین، جمہوریہ کانگو، ہیٹی اور میانمار سمیت دیگر جگہوں پر ہنگامی طبی صورتحال سے نمٹنے میں مددد ملے گی۔
انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ امدادی ضروریات بہت زیادہ ہیں جنہیں پورا کرنا آسان نہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً 25 کروڑ افراد ایسے انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں جن کے نتیجے میں انہیں تحفظ، رہائش اور صحت کی بنیادی ضروریات سے محرومی کا سامنا ہے۔
2025 اس حوالے سے غیر معمولی طور پر مشکل سال ثابت ہوا جب عالمی سطح پر امدادی مالی وسائل میں آنے والی کمی کے باعث 22 بحران زدہ خطوں میں 6,700 طبی مراکز بند یا جزوی طور پر غیرفعال ہو گئے جس کے نتیجے میں 5 کروڑ 30 لاکھ افراد صحت کی سہولیات سے محروم ہوئے۔
ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی طبی اقدامات
ڈاکٹر ایکاویز نے بتایا کہ انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارنے والے خاندانوں کو ایسے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں کہ دستیاب وسائل سے کھانا خریدیں یا دوا۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مزید صحت مند اور محفوظ دنیا کے لیے سرمایہ کاری کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب لوگوں کو اپنے علاقے میں صحت کی سہولیات میسر ہوں تو خاندان متحد رہتے ہیں اور بحرانوں کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال ادارے نے 82 ممالک میں 50 ہنگامی طبی حالات میں مدد فراہم کی، تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بنیادی طبی خدمات فراہم کیں، 8,000 سے زیادہ طبی مراکز کی معاونت کی اور 1,400 سے زیادہ متحرک کلینک تعینات کیے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے انسانی بحرانوں سے متاثرہ علاقوں میں 1,500 شراکت دار اداروں کے کام کو مربوط کیا، 100 سے زیادہ بین الاقوامی ہنگامی طبی ٹیمیں بھیجیں اور 20 سے زیادہ ممالک میں 18 لاکھ طبی مشاورتیں فراہم کیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ادارے نے وبائی نگرانی کے اپنے 24 گھنٹے فعال نظام کے ذریعے گزشتہ سال صحت عامہ کے 450 سے زیادہ خطرات کی نشاندہی کی اور ان سے نمٹنے کے اقدامات کیے تاکہ عالمی سطح پر طبی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔