غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی راستہ کھلنا خوش آئند، یو این
اقوام متحدہ نے مصر اور غزہ کا سرحدی راستہ 'رفح کراسنگ' کھولے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کو رضاکارانہ اور محفوظ طریقے سے بیرون ملک جانے اور واپس آنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے موقع پر کہا ہے کہ رفح اور دیگر تمام سرحدی راستوں کے ذریعے غزہ میں حسب ضرورت انسانی امداد کی بلارکاوٹ فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔
رفح کراسنگ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ تک بند رہی جسے آج جزوی طور پر کھولا گیا جہاں سے روزانہ 50 بیمار اور زخمی افراد کو علاج کے لیے مصر بھیجا جائے گا۔ پہلے روز اسرائیلی حکام نے مصر اور اپنی حکومت کو بھیجی گئی 27 زخمی افراد کی فہرست میں سے صرف پانچ کے سفر کی منظوری دی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق رفح کراسنگ کے ذریعے آخری طبی انخلا مئی 2024 میں ہوا تھا۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر رامز الاکباروف کے مطابق، رفح کراسنگ کا دونوں سمتوں میں دوبارہ کھلنا جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران طے پانے والے معاہدوں کے مطابق ایک اہم قدم ہے۔ محفوظ اور پائیدار طریقے سے انسانی امداد کی رسائی میں اضافے کے لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔
غزہ میں تشدد اور ہلاکتیں
سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا کہ اتوار کو اقوام متحدہ کے متعدد اداروں نے سڑکوں کی صورتحال اور طبی انخلا سے متعلق دیگر پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک پیشگی مشن رفح کراسنگ پر بھیجا تھا۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے خان یونس کے نصر ہسپتال میں مصر سے علاج کے بعد واپس آنے والوں کے لیے ایک استقبالی مرکز قائم کیا ہے۔ اس مرکز میں نفسیاتی و سماجی معاونت اور تحفظ کے ماہرین موجود ہیں جبکہ خوراک، معلومات اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
ترجمان نے گزشتہ دو یوم کے دوران غزہ میں تشدد کی اطلاعات کا حوالہ بھی دیا اور شہریوں کی ہلاکتوں اور اسرائیلی فضائی حملوں پر سخت تشویش اور مذمت کا اظہار کیا۔ اطلاعات کے مطابق، اس دوران اسرائیل کی عسکری کارروائیوں میں تقریباً 30 فلسطینیوں کی ہلاکت ہوئی۔