غزہ: رفح کراسنگ کھلنے پر مریض بیرون ملک علاج کے لیے بیتاب
جنوبی غزہ کے الامل ہسپتال میں وہیل چیئر پر بیٹھے نوعمر فلسطینی یوسف عواد کو امید ہے کہ مصر کے ساتھ سرحدی راستہ 'رفح کراسنگ' کھلنے کے بعد وہ بھی علاج کے لیے علاقے سے باہر جا سکیں گے اور صحت یاب ہو کر دوبارہ چلنے پھرنے اور کھیلنے کے قابل ہو جائیں گے۔
ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ بعد یہ راستہ کھولے جانے سے یوسف جیسے بہت سے بچوں کی امیدیں جاگ اٹھی ہیں۔ رفح کراسنگ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ تک بند رہی جسے آج جزوی طور پر کھولاگیا ہے اور پہلے روز اسرائیلی حکام نے مصر اور اپنی حکومت کو بھیجی گئی 27 زخمی افراد کی فہرست میں سے صرف پانچ کے سفر کی منظوری دی جبکہ بیمار افراد سمیت مجموعی طور پر روزانہ 50 لوگوں کو غزہ سے باہر بھیجا جانا ہے۔
خان یونس میں فلسطینی ہلال احمر کے زیرانتظام چلائے جانے والے الامل ہسپتال کے صحن میں لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنے عزیزوں کو مصر روانہ ہونے کے لیے الوداع کہا۔ انہیں امید تھی کہ یہ بیمار اور زخمی صحت یاب ہو کر اپنے پیروں پر چلتے ہوئے واپس لوٹیں گے۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے مسافروں کی رفح کراسنگ تک منتقلی کے عمل کی نگرانی کی۔
صحت یابی کی نئی امید
ہسپتال میں انتظار کرنے والوں میں شامل ابراہیم ابو ثریا نے بتایا کہ 'ڈبلیو ایچ او' نے ان سے رابطہ کر کے کہا کہ علاج کے لیے الامل ہسپتال پہنچیں۔ انہیں امید ہے کہ سبھی لوگوں کو مصر روانگی کی اجازت مل جائے گی کیونکہ انہیں علاج کی اشد ضرورت ہے۔
ان کے قریب ہی وہیل چیئر پر بیٹھے نوعمر احمد ایاد ابو الخیر اپنے والد کے ساتھ طبی انخلا کے قافلے میں اپنی باری کے منتظر تھے۔ احمد کے سر پر سفید پٹی بندھی تھی اور وہ حرکت کرنے سے قاصر دکھائی دیے۔ والد ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دے رہے تھے اور خیریت پوچھتے ہوئے ان کی صحت یابی کی دعا کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزرتا ہوا ہر لمحہ ان کے بیٹے کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ امید ہے کہ فیصلہ ساز ادارے اور 'ڈبلیو ایچ او' اس عمل کو تیز کریں گے اور ان کے بیٹے کو علاج مکمل کرنے کے لیے سفر کی اجازت دلائیں گے۔
انتظار اور مایوسی
غزہ میں 18,500 سے زیادہ مریض اور زخمی علاج کے لیے بیرون ملک بھیجے جانے کے منتظر ہیں جن میں بچوں کی تعداد تقریباً 4,000 ہے۔ ان لوگوں کو غزہ میں بنیادی طبی سہولیات میسر نہیں۔
پہلے روز محدود تعداد میں مریضوں کو علاج کے لیے منتخب کیے جانے پر ہسپتال میں آئے لوگ مایوس دکھائی دیے اور انہوں نے اس صورتحال پر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاج کے لیے علاقے سے باہر بھیجے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔
فرید القساس نامی ایک زخمی نے کہا کہ وہ جنگ کے آغاز سے رفح کراسنگ کے کھلنے کے منتظر ہیں مگر فی الوقت وہ خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے۔ روزانہ 50 کے بجائے سیکڑوں افراد کو مصر جانے دیا جانا چاہیے۔ صرف اس عمارت میں ہی تقریباً 100 ایسے مریض موجود ہیں جنہیں بیرون ملک علاج درکار ہے جبکہ سفر کے منتظر زخمیوں کی تعداد تقریباً 13 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ امید ہے کہ ان کی آواز سنی جائے گی۔
'ڈبلیو ایچ او' کا معاون کردار
'ڈبلیو ایچ او' طبی انخلا کے عمل میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ چونکہ پہلے روز رفح کراسنگ محدود طور پر کھولی گئی تھی اس لیے کچھ مریض اور ان کے تیماردار براہ راست مصر گئے جبکہ دیگر نے اسرائیل کے زیرکنٹرول کیریم شالوم کراسنگ کے ذریعے سفر کیا۔
رفح کراسنگ کے ذریعے آخری طبی انخلا مئی 2024 میں ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے ادارے نے بتایا کہ اس نے 26 جنوری کو غزہ سے 24 بچوں کو 36 تیمارداروں کے ہمراہ علاج کے لیے اردن منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی۔