لبنان: اسرائیلی فوج کا نامعلوم کیمیائی مادہ گرانا قابل تشویش، یونیفیل
لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس (یونیفیل) نے اسرائیلی فوج کی جانب سے سرحد پر نامعلوم کیمیائی مادہ گرائے جانے کی سرگرمی کو ناقابل قبول اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یونیفیل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فوج نے اتوار کی صبح اطلاع دی کہ وہ دونوں ممالک کی سرحد کے متوازی بلیو لائن کے قریبی علاقوں میں یہ مادہ گرائے گی جسے اس نے غیر زہریلا قرار دیا۔ اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے امن دستوں کو ہدایت دی کہ وہ علاقے سے دور اور پناہ گاہوں میں رہیں جس کے باعث یونیفیل کو اپنی دس سے زیادہ سرگرمیاں منسوخ کرنا پڑیں۔
امن دستے بلیو لائن کے تقریباً ایک تہائی حصے میں معمول کی کارروائیاں انجام دینے سے قاصر رہے اور نو گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد ہی اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر پائے۔ اس دوران امن فورس نے لبنانی افواج کو اس مادے کے نمونے جمع کرنے میں مدد دی تاکہ جانچا جا سکے کہ آیا یہ واقعی غیرزہریلا ہے۔
شہریوں اور امن دستوں کے لیے خطرات
یونیفیل نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کے یہ دانستہ اور منظم اقدامات نہ صرف امن دستوں کی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی صلاحیت کو محدود کرتے ہیں بلکہ ان کی صحت اور عام شہریوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اس نامعلوم کیمیائی مادے کے مقامی زرعی زمین، شہریوں کی طویل مدتی طور پر اپنے گھروں اور روزگار کو واپسی پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیلی فوج نے طیاروں کے ذریعے لبنان میں نامعلوم کیمیائی مادے گرائے ہوں۔ لبنان کی فضائی حدود میں اسرائیل کی پروازیں قرارداد 1701 کی خلاف ورزی ہیں اور کوئی بھی ایسی سرگرمی باعث تشویش ہے جس سے امن دستوں اور شہریوں کے لیے خطرات لاحق ہوتے ہوں۔
یونیفیل نے ایک مرتبہ پھر اسرائیلی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے اور امن دستوں کے ساتھ تعاون کرے تاکہ استحکام کو مزید بہتر بنایا جا سکے جس کے لیے تمام فریق مل کر کام کر رہے ہیں۔