انسانی کہانیاں عالمی تناظر

زیر سمندر تاریں ڈیجیٹل رابطوں کا دھڑکتا دل کیسے؟

سمندر میں سرخ بوئی مارکرز کی ایک لائن، ایک کیبل لگانے والے جہاز اور دور میں چھوٹی کشتیوں کے ساتھ، جو بین الاقوامی آبدوز کیبل مزاحمت سربراہی اجلاس 2026 کی نمائندگی کرتی ہے.
Photo courtesy of ASN
سرخ رنگ کے تیرتے ہوئے یہ گیند نما نشان اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زیر آب آبدوز کی مدد سے انٹرنیٹ کیبل بچھائی جا رہی ہے۔

زیر سمندر تاریں ڈیجیٹل رابطوں کا دھڑکتا دل کیسے؟

از سچن گور (یو این نیوز ہندی)
معاشی ترقی

ہم روزانہ ای میل بھیجتے ہیں، ویڈیو کال کرتے ہیں، سرچ انجن اور سٹریمنگ سروس استعمال کرتے اور آن لائن بینکاری انجام دیتے ہیں۔ لمحوں میں ڈیٹا کا تبادلہ آج دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول بن چکا ہے لیکن ہم اس پر غالباً کم ہی غور کرتے ہیں کہ یہ سب کیسے ممکن ہوتا ہے۔

دراصل یہ سب کچھ سمندر کی گہرائیوں میں بچھے تاروں (کیبلز)کے ایک پیچیدہ عالمی جال کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے جو خاموشی سے انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے۔ 

اطلاعات کے جدید دور میں زیرسمندر تاریں ڈیجیٹل رابطے کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔ بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین(آئی ٹی یو)کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ٹومس لاماناؤسکس نے پرتگال میں ہونے والے ایک عالمی اجلاس سے قبل یو این نیوز کو بتایا کہ عالمی معیشت میں کھربوں ڈالر کا لین دین اور معلومات تک مسلسل رسائی انہی تاروں کے ذریعے ہوتی ہے۔

زیرسمندر تاروں کی مضبوطی 

انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی بین الاقوامی ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد حصہ انہی زیر سمندر تاروں سے گزرتا ہے۔ لوگ موبائل نیٹ ورک، سیٹلائٹ اور فکسڈ انٹرنیٹ جیسے ذرائع کو تو جانتے ہیں مگر ان سب کے پیچھے اصل سہارا زیرسمندر تاروں کا وسیع نیٹ ورک ہے جنہیں دنیا کی ڈیجیٹل شاہراہیں بھی کہا جاتا ہے۔

یہ نظر نہ آنے والی شاہراہیں فائبر آپٹک تاروں پر مشتمل ہوتی ہیں جو مختلف ساحلی مقامات کو جوڑتی ہیں اور کیبل بچھانے والے خصوصی جہازوں کے ذریعے سمندر کی سطح سے سینکڑوں میٹر نیچے نصب کی جاتی ہیں۔

لاماناؤسکس نے بتایا کہ جیسے جیسے ڈیجیٹل رابطوں پر انحصار بڑھ رہا ہے، ان تاروں کی مضبوطی اور ان سے متعلق اجتماعی حکمت عملی کی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ یہی موضوع آج اور کل 'زیرسمندر تاروں کی مضبوطی' کے موضوع پر پرتگال کے شہر پورٹو میں منعقد ہونے والے دوسرے بین الاقوامی کانفرنس کا مرکزی نکتہ ہو گا۔

ایک آبدوز کیبل کی ایک بڑی صنعتی ریل پر لپیٹ کی گئی ایک قریبی تصویر، جس میں کیبل اور اس کی تعیناتی میں استعمال ہونے والی مشینری کی پیچیدہ تفصیلات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
Photo courtesy of ASN

تیز رفتار ڈیٹا کی ترستیل 

دنیا کے مختلف حصوں کو زیرسمندر مواصلاتی کیبل کے ذریعے جوڑنے کا تصور نیا نہیں۔ 1850 میں انگلینڈ اور فرانس پہلی مرتبہ زیرسمندر ٹیلی گراف کیبل کے ذریعے منسلک ہوئے تھے۔ اس کے بعد ٹیکنالوجی نے مسلسل ترقی کی اور مواصلاتی رابطوں کے لیے ٹیلی گراف سے ٹیلی فون نیٹ ورک اور پھر فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے تیز رفتار انٹرنیٹ سے کام لیا جانے لگا۔ آج ان تاروں کے ذریعے ہر سیکنڈ میں سینکڑوں ٹیرا بائٹ ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں 500 سے زیادہ زیر سمندر کمرشل ڈیجیٹل شاہراہیں موجود ہیں جو براعظموں، منڈیوں اور گھروں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ یہ تاریں نسبتاً باریک ہوتی ہیں اور ان کی موٹائی باغیچے میں استعمال ہونے والے پانی کے پائپ کے برابر ہوتی ہے جبکہ ان کی مجموعی لمبائی تقریباً 17 لاکھ کلومیٹر ہے۔ 

کیبل بچھانے سے پہلے سمندری تہہ کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ کم خطرناک اور ایسے راستے منتخب کیے جا سکیں جہاں اس سرگرمی کے ماحول پر کم از کم اثرات مرتب ہوں۔ اس کے بعد خصوصی جہاز فائبر آپٹک کیبل کے بڑے رول سمندر کی تہہ پر بچھاتے ہیں۔

کیبل ٹریفک میں خلل

چونکہ یہ تاریں عالمی معیشت میں گویا ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہیں اس لیے ڈیٹا کی روانی میں ذرا سی رکاوٹ بھی فوراً محسوس کی جاتی ہے۔ اس سے معاشی سرگرمیاں، ہنگامی اور تکنیکی خدمات، سکیورٹی نظام اور اربوں لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔

ہر سال دنیا بھر میں ان تاروں کے تقریباً 150 سے 200 حادثات رپورٹ ہوتے ہیں یعنی ہر ہفتے یہ اوسط تین تا چار بنتی ہے۔ 

لاماناؤسکس نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں بحیرۂ احمر سے لے کر مغربی اور مشرقی افریقہ تک ایسے کئی بڑے حادثات پیش آئے ہیں۔ 2024 میں بحیرہ احمر میں ہونے والے کیبل حادثات نے یورپ اور ایشیا کے درمیان تقریباً 25 فیصد ڈیٹا ٹریفک متاثر کر دی تھی۔

تاروں میں خرابی زلزلوں، زیر سمندر لینڈ سلائیڈز اور آتش فشاں سرگرمیوں کے باعث بھی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن ایسے تقریباً 80 فیصد واقعات انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جن میں بحری جہازوں کے لنگر یا ماہی گیروں کے جال سے کیبل کا کٹ جانا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

پورٹو، پرتگال میں بندرگاہ پر ایک جہاز سے ایک بڑی آبدوز کیبل کی تعیناتی کی ہدایت کرتا ہے، جس میں بین الاقوامی آبدوز کیبل ریسلیینس سربراہی اجلاس 2026 کے دوران ایک کارکن اعلی نمائش والی جست اور ہارڈ ہیٹ پہنتا ہے۔
Photo courtesy of ASN

ہر ملی سیکنڈ کی اہمیت

انہوں نے ٹونگا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 2019 کے بعد وہاں زلزلے، آتش فشاں کے دھماکے اور غلط طریقے سے لنگر اندازی کے باعث تاروں میں خرابی کے تین بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں متبادل نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے ایک تار کٹ جانے پر پورا علاقہ آف لائن ہو سکتا ہے۔

 ذرا ایسے حالات کا تصور کیجیے جہاں آپ اور آپ کا پورا علاقہ ایک ہفتے کے لیے مکمل طور پر آف لائن ہو جائے اور صحت کی ڈیجیٹل سہولیات، معلومات اور تعلیم تک رسائی ممکن نہ رہے

نادیدہ شاہراہوں کی مرمت

قدرتی گھِساؤ کے علاوہ، ڈاٹ کام بوم (2000) کے دوران بچھائی گئی تاروں کا بڑا حصہ اب اپنی عمر پوری کرنے کے قریب ہے کیونکہ ان کی متوقع مدت تقریباً 25 سال ہوتی ہے۔

لاماناؤسکس کے مطابق، کسی حادثے کی صورت میں انجینئر عموماً متاثرہ مقام کی جلد نشاندہی کر لیتے ہیں اور اصل مرمت ہمیشہ سب سے مشکل مرحلہ نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ عموماً مختلف ممالک اور خطوں میں درکار اجازت نامے اور لائسنس حاصل کرنا ہوتا ہے۔

نقصان کی نوعیت اور مقام کے لحاظ سے کیبل مرمت میں دن، ہفتے حتیٰ کہ مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ مصروف علاقوں میں مرمتی جہاز قریب موجود ہوتے ہیں لیکن دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ کئی ممالک میں واضح انتظامی رابطہ نہ ہونے سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی کیبل بچھانا عموماً کئی سال پر مشتمل مہنگا منصوبہ ہوتا ہے۔ چھوٹی تاروں کی لاگت لاکھوں میں ہوتی ہے جبکہ طویل تاروں کی لاگت سینکڑوں ملین ڈالر تک جا سکتی ہے۔

آئی ٹی یو کی میزبانی میں انٹرنیشنل سب میرین کیبل ریسیلینس سربراہی اجلاس 2025 میں شرکت کرنے والے، اسپیکر دکھانے والے اسکرینوں کے ساتھ ایک بڑے کانفرنس ہال میں بیٹھے تھے۔
© ITU

'آئی ٹی یو' کا کردار

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے طور پر 'آئی ٹی یو' تعاون، ضوابط کے تعین اور تکنیکی رہنمائی کے ذریعے زیر سمندر تاروں کی مضبوطی بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔ مرمتی عمل کو تیز کرنا، پائیدار طریقے اپنانا اور حفاظتی اقدامات اس کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

لاماناؤسکس کے مطابق، گزشتہ 40 برس میں آپٹیکل کیبلز کی صلاحیت میں سالانہ تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ تیز رفتار اضافہ ہے جو انٹرنیٹ کی غیر معمولی ترقی کو ممکن بناتا ہے۔ 

تاہم 'آئی ٹی یو' کا کام تاروں کی مرمت کرنا نہیں۔ ادارہ ایسا ماحول پیدا کرنے پر توجہ دیتا ہے جس میں اجازت ناموں کا عمل تیز ہو، حادثاتی نقصان سے بچاؤ کے لیے آگاہی بڑھے اور مرمت کا عمل جلد مکمل ہو سکے۔ 

جیسے جیسے ڈیجیٹل رابطے اور ڈیٹا کی طلب بڑھ رہی ہے، یہ اقدامات مشترکہ ترقی کی بنیاد کو مضبوط بنانے اور عالمی ڈیجیٹل منظرنامے کے مستقبل کو تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔