پاکستان: ’لرننگ پاسپورٹ‘ سندھ میں تعلیم کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم
پاکستان کے شہر کراچی میں نارتھ ناظم آباد اور عزیز آباد کے سکولوں میں قدم رکھنے پر مسکراہٹیں ہی نہیں ملتیں بلکہ طالبات کے روشن مستقبل کا احساس بھی ہوتا ہے جو ان تعلیمی اداروں سے باہر آ کر بھی قائم رہتا ہے۔
ان سکولوں میں زیرتعلیم بچیاں 'لرننگ پاسپورٹ' استعمال کر رہی ہیں جو ان کے صوبہ سندھ میں قائم کردہ ایک ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارم ہے۔ یہ انہیں بڑے خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا ایسا موقع دے رہا ہے جسے کبھی بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔
یہ منصوبہ بحرانوں کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ کووڈ 19 وبا کے دوران سکول بند ہوئے اور 2022 کے سیلاب میں لاکھوں بچے بے گھر ہو گئے تو تعلیم کے نئے طریقوں کی شدید ضرورت پیش آئی۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے صوبائی حکومت کے محکمہ برائے سکول تعلیم وخواندگی کے ساتھ مل کر 'سندھ لرننگ پاسپورٹ' متعارف کرایا۔
تعلیم جاری رکھنے کا موقع
اس پلیٹ فارم کا نصاب ریاضی، سائنس اور سماجی علوم میں طلبہ کی بنیادی علمی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ کراچی کے علاوہ ضلع حیدرآباد، سکھر اور جامشورو کے 30 سکولوں میں جاری ہے اور اب تک 7,000 طلبہ اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان میں 90 فیصد لڑکیوں کے سکول ہیں۔ سندھ میں لڑکیوں کے لیے ثانوی درجے کے سکولوں کی کمی ہے۔ نتیجتاً بہت سی طالبات پرائمری تعلیم کے بعد ثانوی میں داخلہ نہیں لے پاتیں۔ اس کی وجوہات میں گھروں کے قریب تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی، تحفظ سے متعلق خدشات، نقل و حرکت پر پابندیاں اور سماجی روایات شامل ہیں۔
اس سے برعکس، لڑکوں کو ثانوی سطح کے سکولوں تک نسبتاً زیادہ رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے اس مرحلے پر ان کے سکول چھوڑنے کا امکان کم ہوتا ہے۔ 'لرننگ پاسپورٹ' خاص طور پر ان طلبہ کے لیے بنایا گیا ہے جو تعلیم سے محروم ہیں۔ ان میں وہ نوعمر بچے بھی شامل ہیں جو سکول نہیں جا سکتے یا تعلیم چھوڑنے کے قریب ہیں۔ ثانوی سطح پر لڑکیوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا مستقل طور پر تعلیم چھوڑنے، کم عمری کی شادی اور نسل در نسل غربت کو روکنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ٹیکنالوجی کا مددگار کردار
تاہم، اعداد و شمار پوری کہانی بیان نہیں کرتے۔ ان سکولوں میں کمرہ ہائے جماعت کا دورہ کرنے پر متاثر کن صورتحال دکھائی دیتی ہے۔
آٹھویں جماعت کے ایک کمرے میں لڑکیاں اپنے ٹیبلٹس پر پوری توجہ اور عزم کے ساتھ ریاضی کے سوالات حل کرتی نظر آتی ہیں۔ ایک اور جماعت میں طالبات سائنسی دنیا دریافت کرنے اور نئے تصورات سمجھ میں آنے پر خوش دکھائی دیتی ہیں۔ بہت سی لڑکیوں کو پہلی مرتبہ ٹیبلٹ استعمال کرنے کا موقع ملا ہے لیکن وہ اسے بلاجھجھک سیکھ چکی ہیں۔ کوئی بات سمجھ نہ آنے پر وہ ویڈیوز کو دوبارہ دیکھتی اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ یہ محض سیکھنے کا عمل نہیں بلکہ یہ دریافت سے حاصل ہونے والے اعتماد کا اظہار بھی ہے۔
جب ایک ہی وقت میں 25 یا 30 ٹیبلٹس پر ویڈیوز چلتی ہیں تو کمرہ جماعت میں شور و غل بھی سنائی دیتا ہے۔ ان لڑکیوں کو ہیڈ فون کی ضرورت ہے۔ یہ چھوٹی سی چیز ان کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ توجہ سے پڑھنا چاہتی اور امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھانا چاہتی ہیں۔
سکول کی پرنسپل کمرہ جماعت میں 'ایل ای ڈی' سکرینیں نصب کرنا چاہتی ہیں تاکہ اساتذہ تمام طلبہ کو ایک ہی سبق پڑھا سکیں اور طلبہ کو انفرادی طور پر بھی سیکھنے کا موقع ملے۔ یہ واضح ہے کہ ٹیکنالوجی اساتذہ کی جگہ نہیں لے رہی۔ بلکہ یہ ان کے کام کو بہتر بنا رہی ہے اور سکولوں کو تعلیم و تدریس کے نئے طریقے اپنانے میں مدد دے رہی ہے۔
منصوبے کی افادیت کا جائزہ
یونیسف حکومت سندھ کے ساتھ مل کر یہ جائزہ لے رہا ہے کہ 'لرننگ پاسپورٹ' طلبہ کے سیکھنے کے طریقے کو کس طرح بدل رہا ہے۔ ساتویں جماعت کے طلبہ پہلے ہی ایک ابتدائی جائزے میں حصہ لے چکے ہیں۔
تعلیمی سال کے اختتام پر ان کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ پیش رفت دیکھی جا سکے۔ ان نتائج کی بنیاد پر 'لرننگ پاسپورٹ' کو وسعت دینے کا اگلا مرحلہ طے کیا جائے گا تاکہ سندھ بھر کے زیادہ سے زیادہ سکولوں اور آبادیوں تک رسائی ممکن ہو اور ایسے مواقع صرف چند کمرہ ہائے جماعت تک محدود نہ رہیں بلکہ ہر اس بچے کی ان تک رسائی ہو جسے ان کی ضرورت ہے۔
روشن مستقبل کی راہ
14 سالہ وانیا پراعتماد مسکراہٹ کے ساتھ بتاتی ہیں وہ اپنی بڑی بہن کی طرح بینکار یا شاید ایک سرکاری افسر بننا چاہتی ہیں۔ 13 سالہ مریم عزیز آباد کے سکول میں کلاس کی مانیٹر ہیں۔ جو مستقبل میں وکیل بننے کے لیے پرعزم ہیں۔
ان کی باتیں عزم و حوصلے سے معمور ہیں۔ انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم کا تعلق صرف کتابوں یا امتحانات سے نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق روشن مستقبل کے امکانات سے ہے۔ اس کا مطلب کسی لڑکی کو یہ بتانا بھی ہے کہ اس کی زندگی صرف روایتی یا حالات تک محدود نہیں۔ اگر اسے موقع دیا جائے تو وہ جو چاہے کر سکتی ہے۔
'لرننگ پاسپورٹ' یہی موقع فراہم کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم نہیں ہے بلکہ روشن مستقبل کی جانب دروازہ بھی ہے۔ ان سکولوں سے باہر آ کر بھی طلبہ کی ہنسی، روشن سکرینوں پر جھکے پرجوش چہروں کا منظر اور بلند آواز میں بیان کیے گئے خوابوں کی گونج آپ کے ساتھ رہتی ہے۔ یہ لڑکیاں مستقبل کا انتظار نہیں کر رہیں بلکہ وہ اسے متشکل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں اور یہی تعلیم کی اصل طاقت ہے۔
یہ فیچر پہلے انگلش میں یہاں شائع ہوا تھا جس کا اردو ترجمہ عبداللہ زاہد نے کیا ہے۔