افغانستان: لوگوں میں کیمیکل منشیات کے استعمال کا بڑھتا رحجان
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ افغانستان میں استعمال ہونے والی منشیات میں روایتی نشہ آور اشیا سرفہرست ہیں تاہم مصنوعی منشیات اور طبی مقاصد کے لیے بنائی جانے والی دواؤں کا نشے کے لیے استعمال اب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
افغانستان میں منشیات کے استعمال پر ادارے کی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھنگ سب سے عام نشہ ہے جسے نشہ کرنے والے 46 فیصد (مرد) استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد افیون (19 فیصد)، ٹیبلٹ کے (11 فیصد) اور میتھ ایمفیٹامائن (7 فیصد) آتی ہیں۔
منشیات کے استعمال سے گھریلو معیشت پر بھاری بوجھ پڑتا ہے۔ میتھ ایمفیٹامائن اور افیون جیسی منشیات کی لاگت بعض اوقات ایک دن کی مکمل اجرت سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ایک دن میتھ ایمفیٹامائن استعمال کرنے پر کسی غیر ہنرمند مزدور کی یومیہ آمدنی کا 138 فیصد یا ہنرمند مزدور کی اجرت کا 67 فیصد تک خرچ ہو سکتا ہے۔
غربت، بے روزگاری اور مالی مشکلات منشیات کے مسسلسل استعمال کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ جسمانی درد اور بیماری، ذہنی دباؤ، خاندانی مسائل اور نشے کی عادت کو بھی اس کی وجوہات بتایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ منشیات کے استعمال کا وسیع تر سماجی و معاشی دباؤ سے گہرا تعلق ہے۔
افغانستان، وسطی ایشیا، ایران اور پاکستان کے لیے 'یو این او ڈی سی' کے علاقائی نمائندے آلیور سٹولپے نے کہا ہے کہ ملک میں منشیات کا استعمال غربت، بے روزگاری اور صحت کے مسائل سے قریبی طور پر جڑا ہوا ہے۔ علاج اور نقصانات میں کمی کے اقدامات کو بنیادی صحت کی سہولیات، ذہنی صحت کی معاونت اور سماجی تحفظ کے نظام کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے تاکہ بحالی میں مدد ملے۔
علاج اور صنفی عدم مساوات
اس جائزے کے ابتدائی نتائج افغانستان میں منشیات کے استعمال سے متعلق بدلتے ہوئے منظرنامے سے وابستہ طبی خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ آٹھ فیصد افراد نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کی ہے اور ان میں سے 75 فیصد سے زیادہ نے ایک انجیکشن کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ تقریباً نصف تعداد میں لوگوں نے جراثیم سے پاک آلات تک غیر مستقل رسائی کی نشاندہی بھی کی۔
منشیات استعمال کرنے والی صرف 29 فیصد خواتین نے بتایا کہ انہیں علاج تک رسائی ملی جبکہ مردوں میں یہ شرح 53 فیصد تھی۔
اگرچہ ملکی حکام منشیات استعمال کرنے والے افراد کی بڑی تعداد کو علاج مہیا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سہولیات کی تقسیم، رسائی، معیار اور صنفی بنیاد پر رسائی میں اب بھی بڑے خلا موجود ہیں۔ منشیات کی لت سے چھٹکارا دلانے کے تقریباً دو تہائی مراکز صرف مردوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں اور خواتین کے لیے یہ شرح صرف 17.1 فیصد ہے۔ 32 صوبوں میں سے ایک تہائی سے کچھ زیادہ میں ہی خواتین کے لیے ہی خدمات دستیاب ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ جارجیٹ گیگنن نے کہا ہے کہ یہ جائزہ اس انتہائی سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ملکی حکام، عطیہ دہندگان، اقوام متحدہ اور شراکت داروں کی رہنمائی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ منشیات کے استعمال پر قابو پانے میں فرد کو مرکزی اہمیت دی جائے۔ علاوہ ازیں، روک تھام سب سے بنیادی اور کم خرچ حکمت عملی ہے جو منشیات کے بہاؤ کو روکنے، لوگوں کے تحفظ اور نشہ آور اشیا کی طلب میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کی سفارشات
'یو این او ڈی سی' نے اس جائزے میں سفارش کی ہے کہ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے رضاکارانہ اور حقوق پر مبنی علاج کی فراہمی اور نقصانات میں کمی لانے کی خدمات کو وسعت دی جائے اور طبی عملے کی تربیت اور بحالی صحت کے مراکز کے لیے کم از کم معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کی جائے۔
ان اقدامات کو بنیادی صحت کی سہولیات، ذہنی صحت و نفسیاتی معاونت اور سماجی تحفظ و روزگار کی معاونت کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے تاکہ غربت، جسمانی درد اور ذہنی دباؤ جیسے عوامل سے نمٹا جا سکے۔
ایسے تمام اقدامات کو صوبائی سطح پر منشیات کی منڈیوں کے رجحانات کے مطابق ڈھالا جانا چاہیے اور خاندانی بنیادوں پر خدمات اور زیر علاج افراد کے لیے معاشی ذرائع فراہم کر کے گھریلو بوجھ کو کم کیا جانا چاہیے۔
افغانستان میں 'یو این ڈی پی' کے نمائندے سٹیفن روڈریگز کے مطابق، یہ جائزہ رپورٹ افغانستان میں منشیات کے استعمال کی حقیقی صورتحال اور لوگوں کو درپیش مسائل کی واضح تصویر فراہم کرتی ہے۔ اس کے نتائج منشیات سے متعلق طبی مسائل سے نمٹنے، بحالی کے لیے معاونت اور منشیات کے استعمال کی بنیادی وجوہات پر قابو پانے میں مدد دیں گے جن میں روزگار اور معاشی مواقع کی کمی سب سے اہم ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جب اقوام متحدہ کے ادارے مل کر کام کرتے اور اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہیں تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔