میانمار: فوجی دور کے پانچ سالوں میں حالات مسلسل بگاڑ کا شکار، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے میانمار میں تیزی سے بگڑتے حالات اور خطے پر اس کے اثرات کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بحران کو حل کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اتحاد اور مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، انتونیو گوتیرش نے ہر طرح کے تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام متحارب فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی پاسداری یقینی بنائیں اور اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کو بلا رکاوٹ، محفوظ اور مستقل رسائی فراہم کریں تاکہ ضرورت مند افراد تک انسانی امداد اور بنیادی خدمات پہنچائی جا سکیں۔
ملک میں فوج کی حکمرانی کو پانچ سال مکمل ہونے پر سیکرٹری جنرل نے میانمار کے عوام اور ایک جامع، پرامن اور منصفانہ معاشرے کے لیے ان کی جمہوری امنگوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام برادریوں، بشمول روہنگیا کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
تشدد، نقل مکانی اور غذائی عدم تحفظ
ان کا کہنا ہے کہ جمہوری حکمرانی کی بحالی کے لیے کوئی بھی قابل عمل راستہ فوری طور پر تشدد کے خاتمے اور جامع مکالمے کے لیے سنجیدہ عزم پر مبنی ہونا چاہیے جس میں سول سوسائٹی کے تمام طبقات بشمول خواتین، نوجوانوں اور نسلی و اقلیتی برادریوں کی جائز نمائندگی ہو۔
میانمار میں اقتدار پر فوج کا قبضہ ہونے کے بعد گزشتہ پانچ برس میں ملکی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ جرائم پر عدم احتساب کا رجحان برقرار ہے جبکہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین اور وسیع پیمانے پر پامالیاں ہو رہی ہیں۔
موجودہ حالات میں سرحد پار جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، 52 لاکھ افراد اندرون ملک اور سرحد پار بے گھر ہوئے ہیں، ملک کو شدید غذائی عدم تحفظ، معاشی بے یقینی اور بڑھتے ہوئے تشدد کا سامنا ہے جبکہ فوج کی جانب سے فضائی حملوں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ
سیکریٹری جنرل میانمار کے تمام متحارب فریقین اور بین الاقوامی کرداروں پر زور دیا ہے کہ ایسا ماحول یقینی بنایا جائے جس میں میانمار کے عوام آزادانہ اور پرامن طریقے سے اپنے سیاسی حقوق استعمال کر سکیں۔ انہوں نے سابق صدر ون میانت اور سٹیٹ کونسلر آنگ سان سوچی سمیت ناجائز حراست میں رکھے گئے تمام قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ دہرایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ میانمار کے عوام کی قیادت میں بحران کا ایسا حل نکالنا ہو گا جو تنازع کی بنیادی وجوہات کا احاطہ کرے، جوابدہی کو یقینی بنائے اور فوری انسانی امداد و ترقیاتی ضروریات کو پورا کرے۔
میانمار کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ جولی بشپ، آسیان اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے تمام فریقین سے رابطے میں ہیں ملکی سیاسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایسے مشترکہ نکات تلاش کیے جا سکیں جو دیرپا حل اور پائیدار امن کی بنیاد بنیں۔