قدیم یونانی روایت کے مطابق اولمپک میں جنگ بندی اختیار کی جائے، بیئربوک
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا بھر میں جاری مسلح تنازعات کے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال سرمائی اولمپکس کے دوران حقیقی طور پر لڑائی روکنے کے لیے اتفاق کریں تاکہ ان کھیلوں میں جنگ بندی کی قدیم روایت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک کی جانب سے جمعہ کو کی گئی ایک باضابطہ اپیل میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان کھیلوں کو امن کے لیے موقع کے طور پر استعمال کریں۔
اولمپک کھیلوں کے دوران جنگ بندی کی روایت اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت اختلاف اور تقسیم کے دور میں بھی امن کی ایک مشترکہ بنیاد تلاش کر سکتی ہے۔
اس اپیل میں قدیم یونانی روایت ایکےخیریا یعنی اولمپک جنگ بندی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جس کی توثیق جنرل اسمبلی ہر گرمائی اور سرمائی اولمپک کھیلوں سے قبل کرتی آئی ہے۔
امسال سرمائی اولمپکس 6 فروری سے اٹلی میں شروع ہوں گے۔ روایت کے مطابق اولمپک جنگ بندی کا آغاز افتتاحی تقریب سے سات روز قبل ہوتا ہے جو بعدازاں جسمانی معذور افراد کے کھیلوں (پیرا لمپکس) کے اختتام سے سات روز بعد تک برقرار رہتی ہے۔
اینالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ یہ کھیل دنیا کے ہر خطے سے آنے والے کھلاڑیوں کو ایک جگہ جمع کریں گے جس سے اقوام کے درمیان امن، باہمی سمجھ بوجھ اور خیرسگالی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی امن کی علامت کے طور پر کھیلوں کے مقامات پر اقوام متحدہ کا پرچم بھی لہرائے گی۔