انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین جنگ نیوکلیئر سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ، آئی اے ای اے چیف

media:entermedia_image:490e2caf-74ad-4882-a260-b4ad9a141ae4
© IAEA
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی کی یوکرین کے ژیپوریزیا جوہری بجلی گھر کے دورے کے دوران لی گئی ایک تصویر۔

یوکرین جنگ نیوکلیئر سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ، آئی اے ای اے چیف

امن اور سلامتی

جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ دنیا میں جوہری سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جہاں جوہری تنصیبات کو بجلی کی فراہمی بند ہونے سے سنگین حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔

انہوں نے ادارے کے بورڈ آف گورنرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'آئی اے ای اے' کی توجہ جوہری حادثات کو روکنے پر مرکوز ہے کیونکہ لڑائی جاری رہنے سے محاذ جنگ کے قریب واقع تنصیبات مسلسل خطرے کی زد میں ہیں۔ ادارے کی ٹیمیں اس جنگ سے متاثرہ تمام جوہری بجلی گھروں پر تعینات ہیں اور جوہری سلامتی اور تحفظ کی صورتحال پر باقاعدگی سے اطلاعات جاری کر رہی ہیں۔

Tweet URL

بورڈ آف گورنرز 'آئی اے ای اے' کا مرکزی فیصلہ ساز ادارہ ہے جس میں 35 ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ جوہری سلامتی، تحفظ اور حفاظتی نگرانی کی ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ ادارے کے کام کی سمت متعین کرنا بھی بورڈ کی ذمہ داری ہے۔ اس وقت بورڈ کے ارکان میں روس، امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

جوہری تحفظ کی شرائط 

ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ ملکی گرڈ سے قابل اعتماد طور پر بجلی کی فراہمی جوہری سلامتی کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ اگر یہ فراہمی منقطع ہو جائے تو جوہری تنصیبات کو ٹھنڈک پہنچانے اور دیگر اہم حفاظتی نظام چلانے کے لیے بیک اپ نظام پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے جنگ کے دوران جوہری سلامتی سے متعلق 'آئی اے ای اے' کی سات شرائط پر مبنی رہنمائی کا حوالہ دیا جس میں بیرونی بجلی کی فراہمی چوتھی شرط ہے۔

اسی طرح، انہوں نے ژیپوریزیا جوہری بجلی گھر کے تحفظ کے لیے 'آئی اے ای اے' کی تیسری شرط کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق، ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے کہ بیرونی بجلی کی فراہمی ہر وقت دستیاب اور محفوظ رہے۔

ژیپوریزیا بجلی گھر کی مرمت 

ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ ژیپوریزیا جوہری بجلی گھر کے حالات میں حالیہ دنوں قدرے بہتری آئی ہے۔ 19 جنوری کو یورپ کا یہ سب سے بڑا جوہری پلانٹ 330 کلو وولٹ کی آخری بیک اپ بجلی لائن سے دوبارہ جوڑ دیا گیا جس کی مرمت یوکرینی اور روسی حکام کے ساتھ طے پانے والی عارضی جنگ بندی کے تحت کی گئی۔ یہ لائن 2 جنوری سے منقطع تھی جس کی وجہ مبینہ طور پر عسکری سرگرمیاں بتائی گئیں۔

اس بحالی سے قبل، یہ پلانٹ 750 کلو وولٹ کی اپنی مرکزی بجلی لائن پر انحصار کر رہا تھا تاکہ اس نظام کو چالو رکھا جا سکے جو اس کے چھ بند ری ایکٹروں اور استعمال شدہ ایندھن کے ذخیرے پر مشتمل تالابوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا کہ خود جوہری بجلی گھروں کے علاوہ یوکرین کے ذیلی برقی مراکز بھی جوہری سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہیں پہنچنے والا نقصان جوہری سلامتی کو کمزور کرتا ہے اور اس سے ہر صورت گریز کیا جانا چاہیے۔

'آئی اے ای اے' کے ماہرین پر مشتمل ایک مشن 10 ایسے ذیلی مراکز کا جائزہ لے رہا ہے جو کہ جوہری سلامتی میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں جبکہ ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری ہیں۔

جوہری سلامتی کا موثر طریقہ 

'آئی اے ای اے' کی ٹیموں نے دیگر جوہری تنصیبات کے قریب بھی عسکری سرگرمیوں کی اطلاع دی ہے جن میں چرنوبل بھی شامل ہے جہاں ایک اہم ذیلی برقی مرکز کو نقصان پہنچنے سے کئی بجلی لائنیں متاثر ہوئیں اور عارضی طور پر ہنگامی ڈیزل جنریٹر استعمال کرنا پڑے۔ بعد ازاں متاثرہ لائنیں بحال کر دی گئیں۔

رافائل گروسی نے کہا کہ 'آئی اے ای اے' نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی ادارے کس طرح ایک غیر مستحکم جنگی ماحول میں خطرات کو کم کرنے اور پیش گوئی کے قابل حالات پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تکنیکی اقدامات کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور جوہری سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہو۔