تارکین وطن کی ہلاکتوں سے مہاجرت کے محفوظ راستوں کی اہمیت اجاگر
گزشتہ دنوں بحیرہ روم میں پناہ گزینوں کی کشتیاں ڈوبنے کے واقعات اور دیگر حادثات نے مہاجرت کے راستوں پر زندگی کو تحفظ دینے کے اقدامات کی ضرورت ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دی ہے۔
گزشتہ دنوں اٹلی کے ساحل لمپیڈوسا اور جزائر مالٹا کے قریب ایسے دو حادثات میں 51 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو لاپتہ ہیں۔ دیگر ممکنہ واقعات کی اطلاع کے پیش نظر یہ تعداد اصل انسانی نقصان کا درست اندازہ نہ بھی ہو تو کم از کم ایک انتباہ ضرور ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق میں اسسٹنٹ ہائی کمشنر برائے تحفظ روون مینیکڈیویلا نے کہا ہے کہ مہاجرت اختیار کرنے والے لوگ اپنے حالات سے اس قدر مایوس ہوتے ہیں کہ زندگی کو لاحق خطرات کے باوجود اس قدر خطرناک سفر اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ غیرمعمولی واقعات نہیں بلکہ ایسے سنگین رجحان کا حصہ ہیں جو ہر سال دہرایا جاتا ہے۔ ان وجوہات کو حل کرنا ضروری ہے جس کی بنا پر لوگ یہ خطرناک سفر کرتے ہیں اور ان کی جان بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنا بھی لازمی ہیں۔
مہاجرت کا خطرناک راستہ
انہوں نے کہا ہے کہ بحیرروم کا یہ راستہ دنیا میں مہاجرین کی خطرناک ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ سال اس سمندر کے تمام راستوں سے یورپ پہنچنے والے لوگوں کی تعداد 146,000 سے زیادہ تھی جبکہ اس سفر میں 1,953 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔
حالیہ حادثات سمندری طوفان ہیری کے دوران پیش آئے جس نے تیونس، مالٹا اور جنوبی اٹلی کو متاثر کیا اور اس دوران سمندر میں ڈوبنے والے مہاجرین کو بچانے کی کوششیں بھی مشکلات سے دوچار رہیں۔ شدید موسم کی وجہ سے حادثات کی ہنگامی اطلاع دینے کا نظام موثر نہ رہا جس سے اس امر کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے کہ سمندر میں لوگوں کو تلاش کرنے اور بچانے کی صلاحیتوں میں بہتری لانا ہو گی۔۔
قابل انسداد اموات
اسسٹنٹ ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ ادارہ رکن ممالک، شراکت داروں اور لوگوں کے تعاون سے مہاجرین کو دوران سفر تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ حادثات اس بات کو بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پناہ گزینوں اور مہاجرین کو تیسرے ممالک میں محفوظ طریقے سے پہنچانے کے لیے باقاعدہ پروگرام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے موجودہ منصوبے محدود ہیں جن میں باآسانی اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایسے خوفناک حادثات ناگزیر نہیں بلکہ انہیں روکا جا سکتا ہے۔ مہاجرین کی جانیں اس لیے ضائع ہو رہی ہیں کیونکہ محفوظ متبادل اور قابل عمل حفاظتی سہولیات اکثر لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ بحیرہ روم کو ان لوگوں کا قبرستان بننے نہیں دینا چاہیے جو بدترین حالات میں تحفظ کی خاطر محفوظ پناہ کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ صرف دلیرانہ اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے ہی مزید المیوں کو روکا جا سکتا ہے۔