انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان: غذائی تحفظ کے لیے یو این ادارے کا 10 کروڑ ڈالر کا منصوبہ

افغانستان کے صوبہ لغمان میں 21 اپریل 2025 کو ایک چرواہا پی پی آر ویکسینیشن کے بعد بکریوں کو نشان زد کرنے میں ایف اے او کے ویٹرنری ڈاکٹروں کی مدد کرتا ہے۔
© FAO/Hashim Azizi اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) افغانستان میں غذائی خودکفالت کے لیے زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

افغانستان: غذائی تحفظ کے لیے یو این ادارے کا 10 کروڑ ڈالر کا منصوبہ

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) افغانستان میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور زرعی روزگار کی بحالی کے لیے 10 کروڑ ڈالر کا منصوبہ شروع کر رہے ہیں جس سے آئندہ دو برس میں 10 لاکھ غریب لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

اس منصوبے سے ایک لاکھ 51 ہزار خاندان مستفید ہوں گے جن میں پاکستان اور ایران سے واپس آنے والے مہاجرین، ان کے میزبان لوگ اور حالیہ زلزلوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندان شامل ہیں۔ اس اقدام کے تحت دیہی خاندانوں کو روزگار بحال کرنے، مویشیوں کے تحفظ اور تباہ شدہ زرعی پیداواری نظام کی تعمیرنو میں مدد دی جائے گی۔

Tweet URL

'ایف اے او'کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ ہنگامی امداد سے آگے بڑھ کر متنوع زرعی روزگار، فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار، فصل کے بعد آنے والے مراحل اور منڈیوں تک رسائی کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ اس میں خواتین پر خصوصی توجہ دی جائے گی جو افغانستان کے زرعی اور مویشی بانی کے شعبوں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خاندان نہ صرف بحران سے نکل سکیں بلکہ آئندہ معاشی دھچکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار بھی ہوں۔

افغانستان کا غذائی بحران 

زراعت کو افغانستان کی دیہی معیشت میں بنیادی اہمیت حاصل ہے مگر کم پیداوار، زرعی وسائل تک محدود رسائی اور منڈیوں کی کمی کے باعث یہ شعبہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ متواتر قدرتی آفات نے فصلوں، مویشیوں اور آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ ہمسایہ ممالک سے بڑے پیمانے پر مہاجرین واپسی نے ان کی پہلے سے کمزور میزبان برادریوں پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔

ملک میں غذائی بحران کے عروج پر فراہم کی جانے والی زرعی امداد اور غذائی معاونت نے شدید غذائی عدم تحفظ کو وقتی طور پر قابو میں رکھا تاہم اس کے بعد حالات ایک مرتبہ پھر بگڑ گئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق، 2026 میں ایک کروڑ 74 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوں گے جن میں 47 لاکھ کو ہنگامی درجے کی غذائی قلت کا سامنا رہے گا۔

مسلسل خشک سالی اور رواں سال کے اوائل تک اوسط سے کم بارشیں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت خطرات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

زرعی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ 

افغانستان کے موجودہ حالات میں محض ہنگامی امداد سے آگے بڑھ کر طویل المدتی استحکام اور کثیرالمقاصد سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ یہ منصوبہ موسمیاتی لحاظ سے موزوں اور انسان دوست اقدامات کو ترجیح دیتا ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو، غذائی تحفظ میں بہتری آئے اور دیہی روزگار کے ذرائع کو متنوع بنایا جا سکے۔ اس میں خاص طور پر خواتین کی سربراہی میں چلنے والے خاندانوں اور ایسے صوبوں پر توجہ دی جائے گی جو موسمیاتی اور معاشی دھچکوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

یہ منصوبہ افغانستان میں 'ایف اے او' اور 'اے ڈی بی' کی مضبوط شراکت میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2022 سے اب تک بینک نے 'ایف اے او' کے ذریعے تقریباً 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی گرانٹ فراہم کی ہیں تاکہ زرعی پیداوار کو مستحکم کیا جا سکے اور شدید غذائی عدم تحفظ پر قابو پانا ممکن ہو سکے۔ اس تعاون کے نتیجے میں 'ایف اے او' نے اندازاً 56 لاکھ غریب افراد تک رسائی حاصل کی اور آٹھ لاکھ 41 ہزار سے زیادہ خاندانوں کو فصلوں اور مویشیوں کی بحالی، خوراک و غذائیت میں بہتری اور خوراک کی فراہمی کے نظام کو مستحکم کرنے میں مدد دی۔

موثر اور دیرپا نتائج 

ایف اے او کے امدادی پیکیج اپنی لاگت کے اعتبار سے انتہائی موثر اور دیرپا نتائج کے حامل ثابت ہوئے ہیں۔ تقریباً 200 ڈالر کی لاگت سے فراہم کیا جانے والا گندم کا کاشتکاری پیکیج سات افراد پر مشتمل ایک خاندان کو پورا سال خوراک فراہم کر سکتا ہے جو یومیہ توانائی کی ضروریات کا 70 فیصد پورا کرتا ہے۔ 

'ایف اے او' کے تصدیق شدہ بیج استعمال کرنے والے کسانوں نے 27 فیصد زیادہ پیداوار حاصل کی جس کے نتیجے میں ہر خاندان کو 360 کلوگرام اضافی گندم حاصل ہوئی جو مزید دو افراد کو ایک سال تک خوراک فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ پیکیج آئندہ تین سے چار موسموں کے لیے معیاری بیج بھی مہیا کرتے ہیں جس سے طویل المدتی فوائد یقینی بنائے جا سکتے ہیں۔

مویشی بانی کے شعبے میں ادارے کی معاونت سے ریوڑ کی ملکیت میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور دودھ اور گوشت کی دستیابی کے باعث گھریلو غذائیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

'ایف اے او'کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ 'اے ڈی بی' کے ساتھ ادارے کی شراکت افغانستان بھر کے کاشتکار خاندانوں کے لیے حقیقی اور واضح نتائج دے رہی ہے۔ بینک کے تعاون سے لاکھوں دیہی خاندانوں کو ایسے وسائل اور ذرائع فراہم کیے گئے ہیں جن کی مدد سے وہ فصلیں اگائیں، مویشیوں کی حفاظت کر سکیں اور اپنے خاندانوں کے لیے وافر اور غذائیت سے بھرپور خوراک یقینی بنا سکیں۔