انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: غزہ تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، رامز الاکباروف

رامز Alakbarov، مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے لئے نائب خصوصی کوآرڈینیٹر، یروشلم میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فلسطینی پناہ گزینوں کے بارے میں ایک بریفنگ میں بات کرتے ہوئے۔
UN News
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی رابطہ کار رامز الاکباروف ویڈیو لنک کے ذریعے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل: غزہ تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، رامز الاکباروف

امن اور سلامتی

مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی رابطہ کار رامز الاکباروف نے کہا ہے کہ غزہ ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے لیے بہتر مستقبل کے دروازے کھل سکتے ہیں جبکہ سنگین خطرات کا امکان بھی موجود ہے۔

انہوں نے یہ بات مشرق وسطیٰ کی صورتحال بالخصوص فلسطینی مسئلے پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی جہاں ادارے کے پندرہ ارکان سمیت مجموعی طور پر 69 مندوبین خطاب کریں گے۔

الاکباروف نے اپنی بریفنگ میں درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی:

  • غزہ کے لیے ممکنہ فیصلہ کن موڑ اور غیر یقینی حالات کے باوجود بہتر مستقبل کا حقیقی موقع۔
  • مقبوضہ مغربی کنارے میں مسلسل بگڑتے حالات اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں تباہ کن رجحانات کا فروغ۔
  • قاہرہ میں غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی سے ملاقات، جس میں کمیٹی کی معاونت کے بہترین طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
  • غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات کو اسرائیل منتقل کیے جانے کا خیرمقدم۔
  • رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں دوبارہ کھولنے کے اعلان پر امید کا اظہار۔
  • غزہ کی پٹی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی ناگزیر ضرورت۔
  • فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) پر اسرائیل کی جانب سے بڑھتا دباؤ۔

رفح کراسنگ کھولنے کا خیرمقدم 

یروشلم سے ویڈیو بیان میں انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے جامع 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کو غزہ میں جنگ بندی مستحکم کرنے کی جانب انتہائی اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے امن کونسل کے ذیلی اداروں کے قیام کا ذکر بھی کیا جن میں غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی اور اعلیٰ نمائندے کا دفتر شامل ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ دیر قبل قاہرہ سے واپس آئے ہیں جہاں انہوں نے غزہ کے انتظام سے متعلق قومی کمیٹی سے ملاقات کی ہے۔ اس میں غور کیا گیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت کیسے اقوام متحدہ بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی، انسانی امداد کی ترسیل اور غزہ کی تعمیر نو کی بنیاد رکھنے میں موثر معاونت کر سکتا ہے۔ 

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کمیٹی اور غزہ کے فلسطینی عوام کی مکمل مدد کے لیے تیار ہے اور جامع منصوبے کے اگلے مرحلے پر نیک نیتی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔

انہوں نے 25 جنوری کو اسرائیل کی جانب سے رفح کراسنگ کو پیدل آمدورفت کے لیے دونوں سمتوں میں کھولنے کے اعلان پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی کا اسلحہ سے پاک ہونا بنیادی شرط ہے اور قومی کمیٹی کو پورے علاقے میں موثر انداز میں کام کرنے کے لیے فوری طور پر سکیورٹی انتظامات کی ضرورت ہے۔

غزہ کے عوام کا عزم اور امید 

الاکباروف نے غزہ کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ غزہ کے عوام ایک بہتر اور زیادہ مستحکم مستقبل کی جانب بڑھنے کے لیے تیار اور پرعزم ہیں۔ شدید تکالیف کے باوجود انہیں وہاں غیر معمولی حوصلہ، استقامت اور امید نظر آئی۔ 

نوجوان نہایت مشکل حالات کے باوجود تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کسان بیج درآمد نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود وہ مرمت شدہ گرین ہاؤسز میں فصلیں اگانے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ چھوٹے کاروباری وسائل کی قلت اور تباہ شدہ منڈی کے باوجود مسائل کے نت نئے حل تلاش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی تقریباً پوری آبادی اب بھی انسانی امداد کی محتاج ہے۔ شدید بارشوں اور سردی نے تقریباً 15 لاکھ بے گھر شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی عسکری کارروائیاں جاری ہیں جن میں فضائی حملے، گولہ باری اور فائرنگ شامل ہے جبکہ فلسطینی مسلح گروہوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔

مغربی کنارے کے بگڑتے حالات

رابطہ کار نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تفصیلاً بات کی۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں تشدد مسلسل بڑھ رہا ہے جس میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی عسکری کارروائیاں، یہودی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کا تشدد، گھروں کی مسماری اور اجتماعی گرفتاریاں شامل ہیں۔

اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں نے کئی تباہ کن رجحانات کو فروغ دیا ہے: 

  • یہودی بستیوں میں توسیع اور اس سے منسلک بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔
  • نئی بستیوں میں چوکی نما مراکز قائم کر کے انہیں قانونی حیثیت دی جا رہی ہے۔ 
  • فلسطینیوں کے گھروں کو بڑے پیمانے پر مسمار کیا جا رہا ہے اور انہیں جبری بے دخلی کا سامنا ہے۔
  • اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی زمین کو ریاستی اراضی قرار دیا گیا ہے۔
  • نقل و حرکت اور رسائی پر کڑی پابندیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
  • بلدیاتی حدود میں توسیع کی جا رہی ہے۔

آباد کاروں کا تشدد

انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کا مسلسل انتہائی پرتشدد رویہ کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے جس میں انہیں سکیورٹی فورسز کا تعاون بھی حاصل ہوتا ہے۔ فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے جس سے عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

فلسطینی علاقے مزید ٹکڑوں میں تقسیم ہو رہے ہیں اور یہودی بستیوں کے جغرافیائی تسلسل کو مضبوط بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں امن اور دو ریاستی حل کے امکانات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر ان مسائل سے فوری طور پر نمٹا نہ گیا تو جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد میں پیش رفت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

'انروا' کے خلاف مہم

الاکباروف نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں 'انروا' کے خلاف دباؤ کی مہم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ادارے کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ 29 دسمبر کو اسرائیلی پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت اسرائیلی حکام کو شیخ جراح اور کفر عقب میں واقع 'انروا' کی تنصیبات پر قبضہ کرنے کی ہدایت دی گئی جبکہ بجلی، پانی اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو بھی 'انروا' یا اس کی کسی بھی سہولت کو خدمات فراہم کرنے سے روکنے کا حکم دیا گیا۔

12 جنوری کو اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع ادارے کے ایک طبی مرکز پر چھاپہ مارا اور اسے بند کرنے کا حکم دیا۔ ایک ہفتے بعد اسرائیلی فورسز بلڈوزروں کے ساتھ ادارے کے مرکزی دفتر میں داخل ہوئیں اور عمارتوں کو منہدم کر دیا۔ اس دوران حکام کی جانب سے انروا کے عملے کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور انہیں ختم کرنے کی کھلی اپیلیں بھی کی گئیں۔

رابطہ کار نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کو حاصل استحقاق اور استثنیٰ کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اکتوبر 2025 میں عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری کردہ مشاورتی رائے پر عمل کرے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل 'انروا' کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کا پابند ہے۔

انہتر ممالک کی رائے متوقع

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے اب تک فلسطینی اتھارٹی، اسرائیل، امریکہ، چین، برطانیہ، فرانس، روس، پاکستان، اور بحرین کے منوبین نے خطاب کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان سمیت 69 رکن ممالک کے سفارتکار سلامتی کونسل کے اس اجلاس سے خطاب کرینگے۔