انسانی کہانیاں عالمی تناظر

فلسطین: مغربی کنارے اسرائیلی آبادکاروں کے مظالم میں اضافہ، رپورٹ

مغربی کنارے کے ٹولکرم کے قریب نور شمس مہاجرین کیمپ میں فلسطینی خاندانوں اور بچوں نے اپنے سامان لے کر اپنے گھروں کو خالی کرایا، اسرائیلی فوج کی جاری کارروائی کی وجہ سے۔
© UNICEF/Alaa Badarneh اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے تشدد کی وجہ سے ایک فلسطینی خاندان مغربی کنارے میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

فلسطین: مغربی کنارے اسرائیلی آبادکاروں کے مظالم میں اضافہ، رپورٹ

انسانی حقوق

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد جاری ہے جس کے نتیجے میں ایریا سی، وادی اردن اور ایریا بی کے بعض حصوں سے فلسطینی آبادی بڑے پیمانے پر بے دخل ہو رہی ہے جبکہ ان کارروائیوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی حمایت اور عملی تعاون حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے اور مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کو مستحکم کرنے کی اسرائیلی پالیسی کے تناظر میں ریاستی پشت پناہی سے ہونے والا یہ تشدد جبری بے دخلی کا مرکزی ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے اہم اور تزویراتی اہمیت کے علاقوں میں فلسطینیوں کی موجودگی کو بتدریج ختم کیا جا رہا ہے۔

Tweet URL

دفتر نے بتایا ہے کہ آبادکاروں کے ہاتھوں بالخصوص بدوی اور مویشی بان آبادیوں کی یہ جبری بے دخلی عموماً ایک ہی طرز پر ہوتی ہے۔ پہلے ایسی کسی بستی کے قریب یا اس کے اندر ایک غیرقانونی چوکی قائم کی جاتی ہے، اس کے بعد آبادکار پانی اور چراگاہوں تک فلسطینیوں کی رسائی محدود کر دیتے ہیں، ان کے علاقوں پر بار بار حملے کیے جاتے ہیں، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ، مویشیوں کو ہلاک اور لوگوں کو قتل اور زخمی کیا جاتا ہے۔

10 سنگین حملے 

ایسے حملے اب تقریباً روزانہ ہو رہے ہیں۔ گزشتہ شب تقریباً 300 اسرائیلی آبادکاروں نے جنوبی ہیبرون کے علاقے مسافر یطا میں واقع گاؤں حلاوہ اور الفخیت دیہات پر حملہ کر کے متعدد فلسطینیوں کو زخمی کیا، ان گھروں اور املاک کو آگ لگا دی، مویشی چرا لیے اور زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے آنے والی ایمبولینس گاڑیوں کو بھی روک دیا۔

23 سے 25 جنوری کے درمیان یروشلم، وسطی اور شمالی مغربی کنارے، وادی اردن اور جنوبی ہیبرون کی پہاڑیوں میں آبادکاروں کے کم از کم 10 سنگین حملے ریکارڈ کیے گئے۔ 

23 جنوری کو شمالی وادی اردن کے علاقے الحدیدیہ میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں چار بدوی خاندان بے گھر ہو گئے۔ جو علاقہ پہلے 17 بدوی خاندانوں کا مسکن تھا اب وہاں صرف 12 خاندان باقی رہ گئے ہیں۔

جرائم اور عدم احتساب 

دفتر نے بتایا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد شمالی وادی اردن میں ایسے ہی حالات کے تحت 112 خاندانوں پر مشتمل چھ برادریاں جبراً بے دخل کی جا چکی ہیں۔ اسی عرصہ میں، پورے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد سے 4,037 فلسطینی بے گھر ہوئے۔ ان میں حالیہ دنوں مرکزی وادی اردن کی سب سے بڑی اور آخری بدوی آبادی راس عین العوجہ کی بے دخلی بھی شامل ہے جو دو سال تک جاری رہنے والے تشدد اور ہراسانی کے بعد خالی ہوئی۔ 

اگرچہ بے دخلی کے زیادہ تر واقعات ایریا سی اور وادی اردن میں ہو رہے ہیں، تاہم ایریا بی میں بھی جبری بے دخلی اور بستیوں کی توسیع کی رفتار تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے جہاں 2025 میں چار نئی چوکیاں قائم کی گئیں۔

اسی دوران، فلسطینیوں کے لیے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم پر جوابدہی کے راستے تیزی سے بند ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نہ صرف انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں بلکہ اکثر آبادکاروں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتی ہیں۔ اس دوران حفاظتی موجودگی فراہم کرنے والے بین الاقوامی کارکنوں کو حراست میں لے لیا جاتا ہے یا علاقے سے نکال دیا جاتا ہے۔

آنسو گیس اور صوتی بم 

24 جنوری کو رام اللہ کے قریبی گاؤں بیرزیت کے مضافات میں آبادکاروں نے ایک 62 سالہ خاتون اور ان کے 35 سالہ بیٹے پر حملہ کیا۔ جب انہوں نے آبادکاروں کے خلاف مزاحمت کی تو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے خاتون کے بیٹے اور خاندان کے دو دیگر افراد کو حراست میں لے لیا اور انہیں بدسلوکی کا نشانہ بنایا جن میں سے دو افراد کو شدید زخم آئے۔

اسی روز، اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے یروشلم کے قریب مخماس میں ایک بدوی برادری کے علاقے پر چھاپہ مارا جو حالیہ مہینوں میں بارہا آبادکاروں کے حملوں کا نشانہ بنی ہے۔ بعد ازاں اس علاقے کو ایک سال کے لیے بند کر کے عسکری زون قرار دیا گیا۔ اس قانون کا اطلاق غیر مقامی افراد پر ہوتا ہے جبکہ اسرائیلی و بین الاقوامی حفاظتی کارکنوں کو علاقے سے نکال دیا گیا۔

25 جنوری کو جنوبی ہیبرون کے علاقے رجوم علی میں اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی چرواہوں پر حملہ کیا اور ایک 13 سالہ فلسطینی لڑکے کو ٹریکٹر تلے کچل دیا جس سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ حملے کے دوران سکیورٹی فورسز موقع پر موجود تھیں مگر انہوں نے فلسطینی رہائشیوں پر آنسو گیس اور صوتی بموں کا استعمال کیا۔

انسانیت کے خلاف ممکنہ جرم

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 'او ایچ سی ایچ آر'کے سربراہ، اجیت سنگھے نے کہا ہے کہ  قانون بالکل واضح ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنی غیرقانونی موجودگی ختم کرنا ہوگی، بستیوں کی توسیع روکنا ہو گی اور تمام آبادکاروں کو نکالنا ہوگا۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے اندر فلسطینیوں کی جبری منتقلی ایک جنگی جرم اور ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرم بھی ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف غیرضروری طاقت کا استعمال ان کے حق زندگی، سلامتی اور وقار کی صریح خلاف ورزی ہے اور ماضی و حال میں فلسطینیوں کے حقوق کی پامالیوں پر لازمی جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔