انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوئٹزرلینڈ: احتجاجی طلباء کے خلاف مقدمات پریشان کن، انسانی حقوق ماہرین

برن، سوئٹزرلینڈ میں بنڈیشاؤس، سوئس فیڈرل پیلس کا سامنے کا منظر، جس میں نمایاں سبز گنبد اور کلاسیکی فن تعمیر ہے۔ عمارت ابر آلود آسمان کے نیچے ایک بڑے، خالی پتھر سے بنے چوک میں کھڑی ہے۔
Unsplash/Claudio Schwarz سوئٹرزلینڈ کے دارالحکومت برن میں ملکی پارلیمان کی عمارت۔

سوئٹزرلینڈ: احتجاجی طلباء کے خلاف مقدمات پریشان کن، انسانی حقوق ماہرین

انسانی حقوق

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں سرکاری وسائل سے چلنے والے سوئس وفاقی ادارہ ٹیکنالوجی (ای ٹی ایچ زیورخ) کی جانب سے اپنے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر مقدمات کو باعث تشویش قرار دیا ہے۔ یہ احتجاج ادارے کی اسرائیلی اداروں کے ساتھ شراکتوں کے خلاف کیا گیا۔

ماہرین نے کہا ہے کہ سرکاری وسائل سے کی جانے والی تحقیق کو جنگی یا انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی میں براہ راست یا بالواسطہ حصہ دار نہیں ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور ان کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عمل کی روک تھام کریں۔

Tweet URL

ماہرین نے کہا ہے کہ یہ شراکتیں مبینہ طور پر ان تعلیمی اداروں کے ساتھ قائم ہیں جو اسرائیل کے عسکری و صنعتی نظام کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ ادارے مصنوعی ذہانت، نگرانی اور اسلحہ سے متعلق ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جنہیں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی جرائم میں ممکنہ معاونت

اکتوبر 2025 تک 'ای ٹی ایچ زیورخ' کی ویب سائٹ پر درج تھا کہ بنیادی تحقیقی شراکت کے تحت تبادل کیے جانے والے علم سے کسی بھی طرح کام لینے پر کوئی روک ٹوک نہیں اور ادارے کی تحقیق کے ممکنہ عسکری استعمال کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

اگرچہ سوئٹزرلینڈ نے مئی 2025 میں ٹیکنالوجی کے دہرے استعمال سے متعلق نئے برآمدی ضوابط متعارف کرائے تھے، تاہم یہ ضوابط بنیادی تحقیق پر لاگو نہیں ہوتے۔ اس طرح زیادہ تر ذمہ داری انفرادی محققین پر عائد ہوتی ہے جبکہ ادارہ جاتی سطح پر موثر نگرانی کا نظام موجود نہیں ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ اس تحقیق کے عسکری مقاصد کے لیے مبینہ استعمال سے بین الاقوامی جرائم میں ممکنہ معاونت سے متعلق سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔

سرکاری مالی معاونت حاصل کرنے والے ادارےقانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے معیارات کو برقرار رکھیں اور براہِ راست یا بالواسطہ مقبوضہ فلسطینی علاقے پر اسرائیل کی پابندیوں جیسے کسی بھی غیر قانونی عمل یا قبضے میں تعاون سے گریز کریں۔

احتجاج کا بزور طاقت خاتمہ

مئی 2024 میں تقریباً 70 طلبہ نے ادارے میں احتجاجی مظاہرے کیے اور اسرائیلی عسکری و صنعتی نظام سے منسلک تحقیق میں شفافیت لانے اور اس سے لاتعلقی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

ماہرین کے مطابق، چند ہی لمحوں میں پولیس کو طلب کر لیا گیا، مظاہرین کے خلاف سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی نفری تعینات کی گئی اور احتجاج کو زبردستی ختم کرا دیا گیا جبکہ اس مظاہرے سے نہ تو تدریسی عمل متاثر ہوا اور نہ ہی تشدد کا کوئی واقعہ پیش آیا تھا۔

احتجاج کے بعد 38 طلبہ کو تعزیری احکامات موصول ہوئے۔ ان میں سے 17 نے ذاتی اور مالی خطرات کے باوجود ان کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالیہ عدالتی فیصلوں میں پانچ طلبہ کے خلاف الزامات برقرار رکھے گئے جبکہ دو طلبہ کو بری کر دیا گیا۔ دیگر دس طلبہ کے مقدمات پر فیصلے تاحال زیر التوا ہیں۔

انسانی حقوق کی ذمہ داریاں

ماہرین نے کہا ہے کہ ادارے کے احاطے میں اور اس سے باہر پرامن سرگرمیاں طلبہ کے اظہار رائے کے حق کی آزادی اور پرامن اجتماع کے حقوق کا حصہ ہیں اور انہیں جرم قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

تعلیمی اداروں اور ریاستوں کو یقینی بنانا چاہیے کہ انسانی حقوق کے لیے حمایت کے اظہار اور ریاستی اداروں سے جوابدہی کے مطالبے پر طلبہ کو دھمکایہ نہ جائے۔  خصوصاً بین الاقوامی جرائم کے ثابت شدہ واقعات کے حوالے سے طلبہ کو قانونی کارروائی کا نشانہ بنا کر ان کے مستقبل کو دیرپا نقصان پہنچانا غلط ہے۔ 

ماہرین نے سوئٹزرلینڈ کے حکام اور عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھائیں۔ انہوں نے تحقیقی شراکت داری کے ذریعے بین الاقوامی جرائم میں معاونت اور پرامن احتجاج کو جرم قرار دینے کے سلسلے میں فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین اس معاملے میں سوئٹزرلینڈ کی حکومت اور 'ای ٹی ایچ زیورخ' سے بھی رابطے میں ہیں۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔