ہولوکاسٹ کی ہولناکیوں کا سبق نفرت سے چھٹکارے میں ہے، یو این چیف
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ہولوکاسٹ تنبیہ ہے کہ نفرت سب کچھ نگل سکتی ہے اور یہ پیغام آج پہلے سے کہیں زیادہ فوری اور اہم محسوس ہوتا ہے جب دنیا بھر میں یہود دشمنی زور پکڑ رہی ہے۔
انہوں نے ہولوکاسٹ کی یاد میں آج منائے جانے والے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ہولوکاسٹ کے اسباق کو کبھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہیں یاد رکھنا صرف ماضی کو خراج عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ یہ انسانی وقار کے دفاع، کمزوروں کے تحفظ اور ان لوگوں کے ساتھ وفاداری کا فرض اور وعدہ بھی ہے جو آٹھ دہائیاں قبل ان ہولناک واقعات کا نشانہ بنے۔
1945 میں نازی عقوبت خانوں سے لوگوں کو آزاد کرائے جانے کی مناسبت سے اس دن دنیا ان 60 لاکھ یہودیوں کی یاد میں متحد ہوتی ہے جو نازیوں اور ان کے مددگاروں کے ہاتھوں مارے گئے۔
بحیثیت سیکرٹری جنرل اس تقریب سے یہ ان کا دسواں سالانہ خطاب تھا۔ اس موقع پر یورپ کی روما اور سنٹی برادری کے لوگ، جسمانی معذور، ایل جی بی ٹی آئی کیو+ افراد اور ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے دیگر لوگوں سمیت وہ تمام افراد بھی شریک تھے جنہوں نے نازی حکومت کے منظم تشدد، اذیت اور نسل کشی کا سامنا کیا۔
یہود دشمنی کی روک تھام
انتونیو گوتیرش نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کی قیادت میں دہشت گرد حملوں کی ایک مرتبہ پھر سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دنیا تاحال ان ہولناک واقعات کے سائے میں ہے لیکن ہولوکاسٹ کے متاثرین کی یاد میں جمع ہونا امید کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے حاضرین سے کہا کہ 'آپ یہاں اس لیے موجود ہیں کہ آپ نفرت پر امید کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ ان لوگوں کی یاد کا ایک زندہ قوت کے طور پر انتخاب کرتے ہیں جو تعصب کے خلاف ڈھال، انصاف کے لیے بھڑکتا شعلہ اور ہر انسان کے تحفظ کا عہد ہے۔'
سیکرٹری جنرل نے یاد دلایا کہ ہولوکاسٹ کا آغاز قتل سے نہیں بلکہ الفاظ سے ہوا تھا۔ مشترکہ انسانی تاریخ کا یہ سیاہ باب چونکا دینے والی حقیقتیں آشکار کرتا ہے۔ جب برسراقتدار لوگ ضروری اقدامات میں ناکام ہو جائیں تو برائی بلا روک و ٹوک پھیلتی ہے۔
یہود دشمنی اور ہر طرح کی نفرت کی ہر جگہ اور ہر صورت میں بھرپور مذمت ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے ذمہ داری بالکل واضح ہے کہ ہمیں سچ بولنا، نئی نسلوں کو تعلیم دینا، یہود دشمنی اور ہر طرح کی نفرت اور امتیاز کا مقابلہ کرنا اور ہر انسان کے وقار کا دفاع کرنا ہے۔
'دوبارہ کبھی نہیں'
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دیر قبل ان کی ملاقات نازی حراستی کیمپ آسے زندہ باہر آنے والی بلومینتھل لازان سے ہوئی جنہیں دوسری عالمی جنگ کے دوران بچپن میں برگن بیلسن منتقل کر دیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں، نوعمر طالبہ کی حیثیت سے وہ بدنام آشوٹز حراستی کیمپ کا دورہ کر چکی ہیں جس نے ان پر گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 'دوبارہ کبھی نہیں' کا وعدہ اقوام متحدہ کے وجود، اس کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے ڈی این اے میں نقش ہے۔ جب غیر انسانی رویوں کے آثار نظر آئیں تو پہلے سے کہیں زیادہ بلند آواز میں بولنا فرض ہے۔
اینالینا بیئربوک نے ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے سائمن ویزینتھل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برائی کے پنپنے کے لیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ اچھے لوگ کچھ نہ کریں۔ 'دوبارہ کبھی نہیں' محض نعرہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ بولنے، کھڑا ہونے اور انسانی برادری کے ہر فرد کے وقار اور انسانی حقوق کے دفاع کی دائمی ذمہ داری ہے۔
نفرت کے خلاف اقوام متحدہ کا کردار
اظہار نفرت کے خلاف جاری کوششوں کے تحت دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہولوکاسٹ کی یادگاری تقریبات اور اقدامات سےآئندہ نسلوں کے لیے آگاہی کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ تعلیم، ماضی کی یاد اور روک تھام سے متعلق اقدامات کے ذریعے یہود دشمنی کا مقابلہ کرتا ہے۔ 'ہولوکاسٹ اور اقوام متحدہ کا رسائی پروگرام' اس ضمن میں ایک اہم اقدام ہے جو سال بھر اس موضوع پر علمی اور یادگاری سرگرمیوں کا اہتمام کرتا ہے تاکہ یہود دشمنی اور تعصب کے خلاف مزاحمت اور انسانی حقوق کے دفاع کو فروغ دیا جا سکے۔
اقوام متحدہ نسل کشی اور اظہار نفرت کی روک تھام کے لیے ابتدائی انتباہی نظام، عملے کی تربیت اور #NoToHate جیسے اقدامات پر بھی کام کرتا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں یہود دشمنی کی نگرانی اور اس پر ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے منصوبہ عمل سے ہم آہنگ ہیں۔
اقوام متحدہ 1994 میں روانڈا میں تتسی نسل کشی اور سربرینیکا قتل عام سے آگاہی اور ایسے واقعات کا اعادہ روکنے کے پروگراموں میں تعاون کے ذریعے بھی اظہار نفرت کے خلاف کام کر رہا ہے۔